Home / تازہ ترین خبر / بز نامی گروپ نے دیسی ریسٹورینٹوں پر ڈیرے ڈال لئیے۔ بھتہ مُفتا کھانے اور بلیک میلنگ کی جارہی ہے۔ ریسٹورینٹ مالکان

بز نامی گروپ نے دیسی ریسٹورینٹوں پر ڈیرے ڈال لئیے۔ بھتہ مُفتا کھانے اور بلیک میلنگ کی جارہی ہے۔ ریسٹورینٹ مالکان

“بز “نامی  گروپ نے دیسی ریسٹورینٹوں پر حرام خوری کے ڈیرے ڈال لیئے۔ ریسٹورینٹوں کے پرموشن کی آڑ میں بلیک میلنگ اور بھتہ کا کاروبار عروج پر، جاگو ٹائمز نے حقائق حاصل کرلئیے۔وڈیو انٹرویو میں کئی مالکان کے سنگین الزامات پر مبنی انکشافات۔جاگو ایف آئی آر پروگرام میں تفصیلی رپورٹ جلد ہی جاری کرنے کا اعلان۔  

 رپورٹ: راجہ زاہد اختر خانزادہ

ڈیلس( راجہ زاہد اختر خانزادہ) شوشل میڈیا گروپس کے پلیٹ فارم کو معلومات کے پھیلائو اور تبادلہ کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اب اسکی ترقی کے ساتھ ساتھ ،غلط خبروں اور معلومات کے غلط پھیلائو کی شکاتیں یہاں ڈیلس میں  بھی باز گشت  کرنے لگیں ہیں ڈیلس فورٹ ورتھ میں مقامی دیسی ریسٹورینٹس کے مالکان نے جاگو ٹائمز کو اس ضمن میں”بز” نامی  ایک شوشل میڈیا گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر  منفی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مقامی دیسی ریسٹورینٹس کے بزنسز کو پرموٹ کرنے نام پر یہاں  موجود ایک ٹولہ نے شوشل میڈیا کے ذریعہ اب ایک گینگ کی شکل اختیار کرلی ہے جوکہ ریسٹورینٹ مالکان سے ماہانہ بھتہ، مفت کھانا اور دیگر  مراعات ناجائز طریقہ حاصل کرنے میں پیش پیش ہے۔اس  گروپ کے سرغنہ کا نام اردو  لفظ ”ح” سے آتا ہے اسلیئے ریسٹورنٹ مالکان اس  گروپ کو حرام خور ،دو نمبر اور بُھوکے ننگوں کے گروپ سے تعبیر کرتے ہیں ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ چند افراد پر مشتمل  یہ ٹولہ اپنے آپکو پہلے نان پرافٹ ظاہر کرتا تھا جسکا اعلان انہوں نے شروعاتی دور میں اپنے گروپ پیج پر کیا تھا  لیکن آہستہ آہستہ یہ اعلان وقت کی دھول میں دب کر رہ گیا اور وہ اب اس پیج کے ذریعہ  ریسٹورنٹوں کو پر موٹ کرنے کے نام پر یہاں کےکئی دیسی ریسٹورنٹ مالکان  سے فی کس دو سو ڈالر تک کا ہر ماہ بھتہ وصول کر رہے ہیں اسطرح خصوصی ایونٹ کرنے کے چارجز پانچسو سے سات سو روپے لیئے جاتے ہیں جسمیں بیس افراد کا فری کھانا بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ گروپ ایونٹ  کی تشہیر کے نام پر مالکان کی جانب سے خرچہ کرکے کرائے جانے والے ایونٹ کو مکمل طور پر ہائی جیک کرلیتا ہے جس سے آنے والے افراد کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ایونٹ یہی گروپ کررہا ہے۔ اسطرح کئی سماجی تنظیموں کو کہا جاتا ہے کہ ہمارا گروپ آپکو مفت رضاکارانہ سہولیات فراہم کرے گا جسکا درپردہ مقصد انکے پروگرام کو ہائی جیک کرکے اپنے گینگ کی تشہیر ہوتا اسطرح  اس تنظیم کے پروگرام کو بھی مکمل طور ہائی جیک کرلیا جاتا ہے۔ اس حرام خور گینگ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کلر  کی طرح اپنے مخصوص لُوگو کی شرٹیں بھی بنوارکھی ہیں  جوکہ پبلک ایونٹ کے موقع  پر تمام اراکین  پہنکر  آتے ہیں تاکہ عوام کو یہ  تاثر دیا جائے کہ یہ ایونٹ انکی جانب سے منعقد ہورہا ہے اور انکے لوگ ہر جگہ پیش پیش ہیں جبکہ کمیونٹی اور ریسٹورینٹ مالکان کو بھی اس سے  ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ یہ گینگ  ہر جگہ موجود ہے۔ ریسٹورینٹ مالکان کا کہنا ہے کہ بھتہ نہ دینے کی صورت میں اِس گروپ میں موجود جعلی خود ساختہ اکائونٹس حرکت میں آجاتے ہیں اور پھرایسے ریسٹورنٹوں کا میڈیا ٹرائل کرکے اسکو بدنام کیا جاتا ہے  جبکہ یہی کام وہ بھتہ دینے کی صورت میں ریسٹورینٹوں کی تعریف کرتے ہوئے کرتے ہیں ۔گذشتہ کئی ماہ قبل اس گروپ کے جانب سے معروف پاکستانیرہنما ندیم اختر کے ریسٹورینٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اسکے خلاف شوشل میڈیا کے ذریعہ یہ پروپگنڈا کیا گیا کہ انکی ریسٹورینٹ پر استعمال ہونے والا گوشت ذبیح حلال نہیں۔ حلانکہ انکے پاس تمام اسناد اور سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہیں۔ ندیم اختر کا کہنا ہے کہ اس جھوٹے پرپگنڈے کے سبب تین ماہ تک سیل چالیس فی صدی متاثر ہوئی تاہم کمیونٹی کو انہوں نے یقین دلایا اور جس سے کمیونٹی نے پھر آنا شروع کردیا ہے تاہم انکو وقتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ریسٹورینٹ مالکان کا کہنا ہے کہ  یہی وجہہ ہے کہ مذہب اور حلال کا بینر لیکر جھوٹ اور من گھڑت پوسٹوں کے بعد انکو حرام خوری کرنے کیلئے شکار بآسانی مل جاتے ہیں۔ تاہم  ریسٹورینٹوں کے مالکان خوف کا شکار ہیں کہ کہیں  کسی جھگڑے میں آنے کے بعد  انکے ساتھ یہیئ کچھ نہ ہوجائے یہی وجہ ہے کہ کئی ریسٹونٹ مالکان مجبور اً اب بھی  انکو ہر ماہ بھتہ دینے کے ساتھ ساتھ اس گینگ میں موجود مرد وخواتین کو ریسٹورینٹ کے مبینہ فوڈ رویو کرنے پر مفت کھانا کھانے کی سہولیات فراہم  کررہے ہیں اس طرح اس گینگ کے افراد مختلف دنوں میں اپنی فیملوں یا دستوں کے ہمراہ مختلف ریسٹورینٹوں کا کھانا مفت کھاکر اس سے بھرپور طریقہ انجوائے حاصل کرتے ہیں واضع رہے کہ ریسٹورینٹ مالکان پر یہ بھی ضروری ہے کہ حرام خور گینگ کے ہر رکن کو ریسٹورینٹ آنے پر وی آئی پی کا پروٹوکول فراہم کیا  جائے۔  ریسٹورینٹ مالکان نے مزید بتایا کہ مختلف پروگرام اور ایونٹ میں بھی انکے  20 سے زائد دوستوں یا فیملی ممبران  کو مفت کھانا بمعہ وی آئی پی نششت بھی فراہم کرنا ضروری ہوتی  ہے۔ واضع رہے کہ اس گروپ میں جو مرد و خواتین شامل ہیں انکی معاشرہ میں ذاتی طور کوئی سماجی حیثیت نہیں یہی وجہ ہے کہ  وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اسہی چور راستہ سے داخل ہوکر  کمیونٹی کی ہونے والی ہر اہم پارٹی اور تقریب کا زبردستی حصہ بن جاتے ہیں جس سے نہ صرف وہ بلکہ انکی فیملیاں بھی جم کر  ان پارٹیو ں کو بھرپور انجوائے کرتے ہوئے بے دریغ  مفتا توڑتی ہیں۔ جسکے بعد انکے ممبران کاکام پیج پر صرف اور صرف کھانے یا پارٹی کی تعریف کرنا ہوتا ہے جسکو وہ سرانجام دیتے ہیں ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ایک سوشل میڈیا گینگ کی طرح  اپنی مذمومُ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے جسمیں یہ افراد مختلف  شعبہ ہائے جات میں وائیٹ کالر ملازمتوں  سے وابستہ ہیں ۔ریسٹورینٹ مالکان کا مزید کہنا ہے کہ اس گینگ  نے لاتعداد جعلی فیس بک اکائونٹ بنا رکھے ہیں جوکہ بوقت ضرورت کسی بھی پوسٹ پر مخالفت یا حمایت کیلیئے استعمال کئے جاتے ہیں اسطرح جب بھی  اس گروپ کا سرغنہ کسی بھی پوسٹ پر گینگ کے ان افراد کے فرضی ناموں کو ٹیگ کر تا ہے تو یہ گینگ کے  دوسرے افراد کو اس بات کا اشارہ ہو تا ہے کہ اس پوسٹ پر کروائی کرنا شروع  کردیا جائے اسطرح مفتا توڑتے والے اس پوسٹ پر جعلی اکاؤنٹوں کے ذریعہ حملہ آور ہوکر اس پوسٹ کا میڈیا ٹرائیل شروع کردیتے ہیں۔ اسطرح فرضی اور جعلی ناموں کے ذریعے منفی اور جعلی  پروپگنڈا کیا جاتا ہے  جوکہ عام افراد کو متاثر کرتا ہے۔ جبکہ دراصل  یہ پروپگنڈا مبنیہ طور پر سرغنہ کی جانب سے جاری کردہ نظریات اور پالسیوں کا مظہر ہوتا ہے۔ یہ لوگ جعلی ناموں سے کمینٹس کرکے عام پبلک کو یہ تاثر دینے کی کوشش  کرتے ہیں کہ مذکورہ ریسٹورنٹ کتنا خراب یا کتنا اچھا ہے جبکہ یہ لوگ  مقامی ریسٹورنٹ مالکان کو ٹریپ کرنے کیلئے بھی   یہ تمام حربے  استعمال کرتے ہیں ریسٹورینٹ مالکان کا کہنا ہے کہ یہ شرمناک رحجان مقامی دیسی ریسٹورنٹس کے مالکان کو پریشانی میں مبتلا کئے ہوئے ہے اس طرح یہ گروپ ہمارے معاشرہ میں اقدار کی تباہی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ انتشار کو بھی ہوا دینے کا سبب  بن رہا ہے ریاست ٹیکساس میں شوشل میڈیا پر  جعلی آئی ڈی بنانے اور اسکو آپریٹ کرنے کے خلاف واضع قانون موجود ہے لیکن کوئی بھی ایسا شخص ابتک سامنے نہیں آیا جو کہ اس گینک کی ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مقامی پولیس یا ناجائز ذرائع آمدنی کی رپورٹ  آئ آر ایس کو  دے۔  ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ مقامی دیسی میڈیا اس سلسلہ میں ہماری مدد کر سکتا ہے کہ اس گروپ کے افراد کی منفی سرگرمیوں کو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں اُجاگر کرکے مقامی کمیونٹی کو آگاہی فراہم کی تاکہ اس گروپ کے اراکین کا مکروہو چہرہ بے نقاب ہوسکےاور اس گروپ کی  بلیک میلنگ حرام خوری اور بھتہ خوری کو بھی ختمُ ہوسکے۔ ریسٹورنٹس مالکان کا کمیونٹی کو کہنا ہے کہ وہ اس گروپ  کی جانب سے کئی گئی پوسٹوں پر توجہ نہ یں بلکہ  وہ خود اصل حقائق کو تلاش کریں۔ جاگو ٹائمز نیوز کی جانب سے ڈیلس فورٹ ورتھ میں موجود ریسٹورینٹوں کے مالکان سے انٹرویو  کا سلسلہ جاری ہے اور عنقریب متاثر مالکان سے انٹرویو پر مبنی وڈیو  نیوز رپورٹ جاری کی جائے گی تاکہ کمیونٹی کو درست معلومات کی فراہمی میں آسانی فراہم ہوسکے۔  

 

Check Also

مڈٹرم انتخابات نے ملک میں تبدیلی کا عندیہ دیدیا ہے، کمیونٹی متحرک ہوئی تو کئی برج پلٹ گئے،کانگریس وومین ایڈی برنیس جانس

مڈٹرم انتخابات نے ملک میں تبدیلی کا عندیہ دیدیا ہے، کمیونٹی متحرک ہوئی تو کئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *