Home / جاگو پکوان / بڑی عید کے لیئے بڑے پکوان

بڑی عید کے لیئے بڑے پکوان

بڑی عید کے بڑے پکوان

عیدالاضحی کی آمد آمد ہے اور خوشیوں سے بھرپور اس نمکین تہوار پر تقریباً ہر گھر کا دسترخوان گوشت کے مزے دار چٹ پٹے پکوانوں سےلازماً سجتا ہے۔طبّی اعتبار سے دیکھا جائے، توگوشت میں لحمیات اور پروٹین سمیت کئی ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں، جو صحت کے لیے مفید ہیں۔ تاہم، گوشت پکانے کے حوالے سے ماہرینِ اغذیہ کا کہنا ہے کہ’’گوشت صرف اس حد تک پکایا جائے کہ وہ کھانے کے قابل ہوجائے۔ زیادہ گلانے سےاس کی غذائیت کم ہوجاتی ہے۔

نیز، روسٹ، تکّے اور سیخ کباب کے لیے ہمیشہ نرم گوشت، کم تپش پر پکائیں، تاکہ گوشت کا عرق ضایع نہ ہو، جب کہ سخت گوشت، جس میں زیادہ بافتیں(connective tissue)ہوتی ہیں، شوربے دار سالن کے لیے موزوں ہے کہ ہلکی آنچ اور پانی کے ساتھ بافتیں گل جاتی ہیں۔زیادہ بہتر تو یہی ہے کہ پریشرکُکر استعمال کیا جائے ۔اس طرح گوشت جلد گل جاتا ہے اور غذائی اجزاء بھی کم ہی ضایع ہوتے ہیں۔اس کے برعکس تیز آنچ پر گوشت پکانے سے پروٹین سخت ہوجاتی ہے،جس کے سبب نہ صرف گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے، بلکہ غذائی اجزاء بھی ضایع ہوتے ہیں۔‘‘ذیل میں ہم عید الاضحی کی مناسبت سےگوشت کے چند روایتی پکوانوں کی تراکیب پیش کر رہے ہیں۔

٭قورما:سب سے پہلے تین پاؤ گوشت دھو کر چھلنی میں رکھ دیں۔ پھر ایک پیالے میں آدھی پیالی دہی پھینٹیں۔اب نیاز بو کے چند پتّے،(قورما، پتّوں کے بغیر بھی پکایا جاسکتا ہے)، ادرک آدھا چھٹانک، لہسن چھے جوے، لونگ چار عدد، ہرا دھنیا چند پتّے اور حسبِ ذائقہ نمک ملا کر پیس لیں اور دہی میں مکس کردیں۔ اس آمیزے میںگوشت ڈال کرآدھے گھنٹے کی میری نیشن کے لیے رکھ دیں۔اس دوران دو عدد پیاز کے باریک لچھے کاٹ لیں۔ایک بھاری پیندے کے برتن میں تیل کڑکڑائیں اور گوشت آمیزے سمیت ڈال کر بھون لیں، جب نمی ختم ہوجائے، تو حسبِ منشا لال مرچ، دھنیا(پِسا ہوا)، ہلدی اور سفید زیرہ ڈال کر ایک بار پھر بھون لیں۔خوشبو آنے لگے،تو دہی آدھی پیالی(پھینٹی ہوئی)،کالی مرچ چھے عدد،اجوائن ایک چٹکی اور ایک پیالی پانی ڈال کر مضبوطی سے ڈھکن ڈھک کےہلکی آنچ پر پکنے دیں۔گوشت گل جائے، تو اتنا بھونیں کہ مسالا تیل چھوڑ دے۔آخر میں کٹا ہو ہرا دھنیا اور چار ہری مرچیں ڈال کر5منٹ کے لیے دَم دے دیں اور نان کے ساتھ لذیذ قورمے کا لطف اُٹھائیں۔

٭کلیجی کا قورما:ایک عدد بکرے کی کلیجی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں۔ پھر تھوڑا سا نمک اور لہسن آٹھ جوےپانی میں ڈال کر کلیجی اُبال لیں۔اب دوسری دیگچی میں آدھا پائو تیل خُوب اچھی طرح گرم کریں۔اس میں دو عدد پیازکے باریک لچّھے اور لہسن کے چھےجوے باریک کترکر سُنہری کرلیں۔ساتھ ہی چار ٹماٹر بھی لمبائی میں کاٹ کر ڈال دیں۔ ٹماٹروں کا پانی خشک ہوجائے، تو سفید زیرہ ایک چٹکی،ادرک آدھی چھٹانک، کالی مرچ دس عدد، لونگ چار عدد، دار چینی کا چھوٹا سا ٹکڑا، نمک حسبِ منشا، لال مرچ حسبِ ذائقہ، دھنیا ایک چائے کا چمچ(پِسا ہوا) اور ہلدی آدھا چائے کا چمچ ڈال کر بھونیں۔ مسالے کی خوشبو آنے لگے، تو آدھ پائو دہی پھینٹ کر مکس کریں اور ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ مسالا تیل چھوڑ دے،تو اس میں کلیجی کے ٹکڑے ڈال کر تھوڑا سا بھون لیں۔ ساتھ ہی ایک پیالی پانی ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیں۔اگر کھٹاس پسند ہو، تو پانی کی جگہ آدھی پیالی املی کا پانی بھی ڈال سکتے ہیں۔ کلیجی گل جائے، تو تھوڑا سا بھون کر ہرا دھنیا اور ہری مرچیں(حسبِ پسند)کاٹ کر دَم دے دیں۔

٭گُردے کا سالن: آدھ کلو گُردے صاف کرلیں۔ پھر ایک دیگچی میں آدھی پیالی تیل کڑکڑائیں اور دو عدد پیاز کے باریک لچّھے اور لہسن کےبارہ جوے کتر کر سُنہرے کرلیں۔ اس میں چار عدد ٹماٹر کاٹ کر ڈالیں اور ڈھک کر ہلکی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیں۔ جب ٹماٹر گل جائیں، تو گُردے ڈال کر بھون لیں، ساتھ ہی حسبِ ذائقہ نمک بھی شامل کردیں۔پھر لال مرچ دو چائے کے چمچ، سفید زیرہ ایک چٹکی، ادرک آدھی چھٹانک(پِسی ہوئی)ڈال کر مزید بھونیں۔مسالے کی خوشبو آنے لگے، تو آدھی پیالی دہی(پھینٹی ہوئی)اور ایک پیالی پانی ڈال کر ڈھک دیں۔ ہلکی آنچ پر ہلکے ہلکے پکنے دیں۔مسالاتیل چھوڑ دے توہرا دھنیا اور کٹی ہوئی ہری مرچیں ڈال کر دَم پر رکھ دیں۔ اگر شوربا رکھنا ہو، تو آخری مرتبہ بھونتے ہوئےحسبِ ضرورت پانی شامل کر دیں۔

٭مغز کا سالن: دو عدد مغزپر(بکرے کے) ہلدی لگاکر پانی سے دھولیں۔اب ایک دیگچی میں پانی لے کر چولھے پر رکھیں اور اس میں چار لونگ اور لہسن کےچھے جوے ڈال کر اُبلنے دیں۔ ایک دو اُبال آنے پر اُتار کر رکھ دیں۔ پھر نمک، لال مرچ ، دھنیا آدھا چائے کا چمچ(پِسا ہوا)، ادرک 15گرام اور کالی مرچ ایک چٹکی مکس کرکے پِیس لیں۔پھر چھوٹے سائز کے دو عدد پیاز کاٹ کر فرائی کریں اور پیس کر اس میں پِسا ہوا مسالا شامل کردیں۔ اب دو عدد انڈے توڑ کر خُوب پھینٹ لیں اور اس میں چار کھانے کے چمچ میدہ، تیار شدہ مسالا اور تھوڑا سا گرم مسالا مکس کرکے یک جان کرلیں۔ اس کے بعد تیز چُھری کی مدد سے مغز کے برابر ٹکڑے کاٹیں۔ پین میں آدھا پائو تیل گرم کریں اور ایک ایک ٹکڑے کو انڈے والے آمیزے میں ڈبوکر تل لیں۔ چاروں طرف سے سُرخ ہوجائے، تو نکال لیں۔ ایک وقت میں ایک سے زیادہ مغزبھی تل سکتے ہیں۔ ڈش میں سلاد کے پتّے رکھ کر ان پر قرینے سے مغز کے ٹکڑے رکھیں اور چاروں طرف ٹماٹر، گاجر، اُبلے ہوئے آلو اور چقندر کے قتلے، پھول گوبھی،(اُبلی اور تلی ہوئی)، ہرا دھنیا اور ہری مرچیں سجا کر سَرو کریں۔

٭بکرے کے پائے: بکرے کے تیارپائے بیسن لگا کر اچھی طرح دھولیں۔ دیگچی میں حسبِ ضرورت پانی لے کر اس میں لونگ چار عدد، دار چینی دو ٹکڑے، نمک حسبِ منشا، لہسن آدھا چھٹانک(پِسا ہوا) اور پائے ڈال کر دیگچی کا ڈھکن مضبوطی سے بند کردیں۔کم از کم ہلکی آنچ پر چار گھنٹے تک پکنے دیں۔ گل جائیں، تو چولھے سے اُتار لیں، ورنہ مزید پانی شامل کرکے گلنے دیں۔اسی دوران گرم مسالا (سفید زیرہ ایک چائے کا چمچ، لونگ چار عدد، دار چینی دو ٹکڑے، کالی مرچ آٹھ دانے، بڑی الائچی دو عدد) پیس کر رکھ لیں۔پھر آدھا پاؤ پیاز اور آدھی آدھی چھٹانک لہسن، ادرک مکس کرکے پیس لیں۔ ایک کُھلے مُنہ کی دیگچی میں ایک پائو تیل کڑکڑائیںاور تقریباً آدھا پائو پیاز کے باریک لچّھےکاٹ کر براؤن کرلیں۔پھر اس میں پیاز، ادرک اورلہسن والا آمیزہ شامل کر کے مزید بھونیں۔ اس کے بعد ایک پائو دہی(پھینٹی ہوئی)اور تھوڑا سا گرم مسالا پاؤڈر شامل کر تھوڑا سا بھونیں اور ہلدی، لال مرچ، نمک، پسا ہوا خشک دھنیا اور ایک بڑا چمچ پائے کی یخنی(جس میں پائے گلائے گئے ہوں)شامل کردیں۔جب مسالا بُھننے کی خوشبو آنے لگے، تو پائے اور چھے عدد ہری مرچیں ڈال کر اتنا بھونیں کہ پانی خشک ہوجائے۔پھر باقی یخنی بھی شامل کرکے ہلکی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیں۔آخر میں ہرا دھنیا اور ایک چٹکی پسا ہوا گرم مسالا چھڑک کر چولھا بند کردیں۔

Check Also

’’زیتون‘‘ فوائد سے بھرپور اور ذائقے میں بے مثال

انسان نے ہزاروں برس قبل زیتون کو غذا کا حصہ بنایا ۔ ماہرین کے مطابق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *