Home / قلم شرارے / دنیا میں تنہا ہوتا امریکہ آخر کیوں؟

دنیا میں تنہا ہوتا امریکہ آخر کیوں؟

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے فیصلہ کو اقوام متحدہ میں موجود اراکین کی جانب سے نامنظور کرنے کی قرار داد کے بعد ایساس محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس فیصلہ کی مخالفت کی گئی ترکی اور اسپین کی جانب سے قرار داد کا مسودہ تیار کیا گیا امریکہ کی جانب سے قرار دار کے پاس ہونے سے قبل مختلف قسم کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن باوجود تمام دبائو کے اقوام متحدہ کے 192اراکین میں سے 128اراکین نے اس قرار داد کی حمایت کی جبکہ صرف 9ممالک تھے جو کہ امریکہ کے ساتھ کھڑے رہے رائے شماری میں 35ممالک نے اپنی رائے دہی سے احتراز کیا جبکہ 20ممالک کے مندوبین اس دوران غیر حاضر رہے قرار داد میں کہا گیا تھا کہ امریکہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے جبکہ قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ باطل اور کالعدم ہے اس لیے اس کو منسوخ کیا جائے اس سے قبل امریکہ کے صدر نے دھمکی دی تھی کی مذکورہ قرار داد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی رائے شماری سے قبل فلسطین کے وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے اراکین پر زور دیا تھا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں میں نہ آئیں اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے اس قرار دار کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو جھوٹ کا گڑھ قرار دیا اس طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اور دس غیر مستقل اراکین نے بھی اس طرح کی ایک ایسی ہی قرار داد کے ذریعہ امریکہ کے اس اقدام کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا تاہم امریکہ کی جانب سے مخالفت ہونے کے باعث قرار داد منظور نہیں کی جا سکی کیونکہ امریکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے سلامتی کونسل میں کسی بھی قرار داد کی منظوری کیلئے ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین امریکہ،برطانیہ،فرانس،روس اور چین بھی اس کے حق میں ووٹ دیں۔
اقوام متحدہ میں جن 9ممالک نے اس قرار داد کے خلا ف ووٹ دیا اس میں امریکہ اسرائیل، گونٹیمالا، ہونڈیورس،دی مارشل آسلنیڈر، مائیکروسنشیا، نورو،پلائو اور ٹوگو شامل ہیں اس رائے شماری میں 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا جس میں اینٹگووباربوڈا، ارجٹیائن، آسٹریلیا، بہاماس، بتین،بھوٹان،بوسنیا، وہرزنگوونیا، کیمرون، کینیڈا،کولمبیا،کرونشیا،چیک جمہوریہ ،جمہوری ڈومنکین، استوائی گئی ،ضجی،ہیٹی،حجارستان، جمیکا، کیریبائی، لٹویا،لسوتھ، ملاوی، میکسیکو،پاناما، پیرگوئے، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روانڈا، جزائر،سلیمان،جنوبی سوڈان، ٹرنینڈاڈ، وٹوباگو، تووالو،یوگینڈا،وانواتو شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی پاس ہونے والی اس قرار داد میں سلامتی کونسل کے امریکہ کے علاوہ دیگر چار اراکین ممالک برطانیہ،فرانس،روس اور چین بھی شامل ہیں جبکہ امریکہ کے خاص اتحادی ممالک جس میں سعودی عرب پاکستان اور دیگر مسلمان اتحادی ممالک بھی شامل ہیں امریکی اعلان کے بعد عرب اور مسلمان ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تمام 192ممبر ممالک کا خصوصی اور ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب (سفید)نک ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکہ اس دن کو یاد رکھے گا جبکہ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنا سفارتخانہ یروشلم میں ہی قائم رکھے گا اور یہی کچھ امریکی عوام چاہتے ہیں اقوام متحدہ کی جانب سے ووٹ کرنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اقوم متحدہ کی جانب سے پاس ہونے والی قرار داد کو فلسطینی عوام نے اپنی کامیابی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے رائے شماری کے اس فیصلہ کے نتائج کو رد کر دیا گیا۔فلسطین کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج فلسطین کے عوام کیلئے ایک بڑی کامیابی ہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے نتائج کو رد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو جھوٹ کے گھر سے تعبیر کیا ہے جبکہ امریکہ انہوں نے کی اس ضمن میں واضع پالیسوں پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا جبکہ انہوں نے ان ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس دن سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اس دن سے پوری دنیا میں اس طرح کے فیصلے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے امریکہ میں بھی اس طرح کے مظاہرے تقریباً تمام بڑی ریاستوں میں ہوئے دلچسپ امر یہ ہے کہ انڈیا جو کہ اسرائیل کا دوست ملک ہے اس نے بھی اس ضمن میں اسرائیل کا ساتھ دینے سے احتراز کرتے ہوئے کھلم کھلا طور پر مخالفت میں ووٹ دیا۔حالانکہ انڈیا کی حکمران پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو اس معاملہ میں اسرائیل کی حمایت کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ اجلاس سے قبل ان کے ایک رہنما نے ٹوئٹ کیا تھا کہ یا تو انڈیا اس اجلاس سے غیر حاضر ہو جائے گا اگر حاضر ہو گا تو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت میں ووٹ کرئے گا مگر ایسا نہ ہو سکا جس پر ان کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس طرح مخالفت کر کے بڑی غلطی کی ہے مگر دوسری جانب انٹرنینشل افئیر کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملہ میں دنیا کی اکثریت ایک جانب تھی جبکہ حال ہی میں اسلحہ سے متعلق انڈیا اور اسرائیل کے مابین کچھ معاملات تھے جن کو وہ درست تصور نہیں کرتے تھے اس لیے شاید مخالف ووٹ دینے کی ایک وجہ ہو جبکہ دوسری جانب مسلمان ملک سعودی عرب اور قطر نے چونکہ اس معاملہ پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا اور انڈیا کے ان دونوں ممالک سے مفادات بھی وابستہ ہیں اس لیے بھی شاید انہوں نے ایسا کیا ہے اس ضمن میں انڈین قیادت کا کہنا تھا کہ ان کے امریکہ سے تعلقات اپنی جگہ ہیں تاہم انڈیا نے اس معاملہ پر مسلمان دنیا اور پوری دنیا کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ کشمیر معاملہ کے سبب یہ بھی ضروری تھا کہ انڈیا اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قانون کی حمایت کرئے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں تھی کیونکہ گزشتہ 50سالہ تاریخ میں انڈیا اس بات کی کئی بار حمایت کر چکا ہے اس طرح امریکہ سے امداد حاصل کرنے والے 10ممالک میں صرف اسرائیل کے علاوہ کوئی ایسا ملک بھی امریکہ کی حمایت میں نہیں آیا جو کہ ان سے امداد حاصل کرتے ہیں امریکی اعداد و شمار کے مطابق 10امداد حاصل کرنے والے سرفہرست ایسے ممالک جنہوں نے امریکہ سے 2016میں کئی بلین ڈالر امداد لی ان میں اس اسرائیل نے 3.1بلین ،مصرنے 1.46بلین، پاکستان نے803.8ملین ڈالر، نائجریا نے607.5ملین، یوکرائن نے513.5ملین،ا فغانستان نے 1.5بلین،ا ردن نے 1.00بلین،کینی نے ا630.3ملین ،تنزانیا نے 590.6ملین اور یوگینڈا نے469.1 ملین ڈالر امداد حاصل کی وہ بھی ان کی مخالفت میں شامل رہے اور شامل ہیں تاہم اس موقع پر انہوں نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا اور صرف اسرائیل ہی امریکہ کے ساتھ کھڑا رہا۔
ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ان ممالک کے نمائندوں نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا جو کہ واقعی ایک اچنبے کی بات ہے اس بات کی اصلیت کا پتہ کچھ دنوں بعد ہی معلوم ہو گا کیونکہ اس ضمن میں نک ہیلی اور امریکہ انتظامیہ نے ان امداد لینے والے ممالک کو اس بارے میں متنبہ بھی کیا تھا کہ ایسا نہ کرنے پر ان کی امداد متاثر ہو گئی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ کیا ہوتا ہے اس ضمن میں نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی ٹرمپ نے پاکستان کو تو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔امریکہ اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ امداد مصر کو دیتا ہے اور وہ بھی ان کے خلاف کھڑا تھا یہ بات حیرت انگیز ہے دوسری جانب ہم آتے ہیں امریکہ اور ایران کی جاری  چپقلش کی طرف حال ہی میں ایران کی وزارت خارجہ کے افسران نے گزشتہ ماہ اٹلی کے دارلحکومت روم میں امریکہ سے متعلق ایک عجیب بات کی ان کا کہنا تھا کہ دنیا امریکہ سے کہیں بڑی ہے جبکہ دنیا تبدیلی کی طرف گامزن ہے امریکہ کی جانب سے لگائے ہوئے عالمی ضابطے (نیو ورلڈ آڈر) کی مدت اب ختم ہو چکی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی بحیثیت امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد جس طرح اس معاہدہ کو ختم کیا گیا اس سے امریکہ کی ساکھ کو جہاں دھچکا لگا وہاں بین الاقوامی دنیا میں ایران کو اس کی وجہ سے مزید تقویت حاصل ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ایرانی محکمہ خارجہ کے بالا حکام اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے یں اور وہ امریکہ کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے اثرات پر اب تک مرتب نہیں ہوئے ہیں ایران اب پہلے سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے یہاں تک کہ اتحادی یورپی ممالک بھی ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنا رہے ہیں یہ بھی انتہائی اہم پیش رفت ہے کہ چین ایرانی معیثت پر اربوں ڈالر لگا رہا ہے شاید یہی وہ پس منظر ہے جس کے نتیجہ میں ایرانی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ افسران پر یہ حملہ دہرا رہے ہیں کہ ”یہ دنیا امریکہ سے کافی بڑی ہے ”اس ضمن میں گزشتہ سال ماہ نومبر کے آخر میں اٹلی کے دارلحکومت روم میں ایران اٹلی انویسٹمنٹ فورم کی ابتداء کی گئی جس میں اٹلی کے سرمایہ کاروں اور اقتصادی وزارت کے عہدیداران شریک ہوئے اٹلی میں ہونے والے اس فورم کی شروعات سے یہ پیغام مل رہا ہے کہ یوری ممالک ایران معاملہ پر واشنگٹن سے جدا راستہ اختیار کر ہے ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے ماہ میں جب یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ایران سے کیا گیا معاہدہ ختم کرنا ہے تو انہوں نے کانگریس کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ ایران پر نئی پابندیاں لاگو کرئے یورپی ممالک نے صدر ٹرمپ کے اس انتہا پسندانہ بیان کی حمایت نہیں کہ یورپی سرمایہ کار اس بیان کے بعد کچھ پریشان ہوئے تاہم انہوں نے ایران سے اپنے تجارتی روابط قائم رکھنے کیلئے نئے راستے تلاش کر لیے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایرانیوں کو دنیا امریکہ سے زیادہ بڑی نظر آ رہی ہے ایرانی وفود نے ہونے والے اس مشترکہ فورم میں یوری سرمایہ کاروں کو کہا کہ اگر مغربی ممالک نے ایران میں سرمایہ کاری نہیں کی تو چین ان سے آگے نکل سکتا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی یورپی ممالک کی قیادت اس بات پر سنجیدگی سے غو کر رہے ہیں کیونکہ اگر وہ نئے اور پرانے سامراجی یا جدید نو آبادیاتی نظام پر سوچتے رہے تو وقت ان کے ہاتھوں نکل بھی سکتی ہے حقیقت یہ ہے کہ چین اور دیگر ابھرنے والی مغربی طاقتیں حقیقاً وہ سب کچھ حاصل کر رہی ہیں چین ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے ۔ایران کا کہنا ہے کہ چائنا انٹرنیشنل ٹرسٹ انوسٹمینٹ کارپوریشن نے ایران میں 10ارب ڈالر کی کریڈیٹ لائن قائم کی ہے جبکہ چائنا ڈویلپمنٹ بینک وہاں پر مزید 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے یہ سرمایہ کاری چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے تحت کی جا رہی ہے واضع رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک بھی اس منصوبہ کا حصہ ہے۔2014ء میں جب امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کیں تھیں تو اس کے بعد بھی یورپی ممالک نے ایران میں سرمایہ کاری کی اٹلی،ایران میں تجارتی حوالہ سے زیادہ حصہ دار ہے اٹلی کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق2016ء میں ایران کو اٹلی سے 1.55ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی جو کہ 2014ء میں 1.15ڈالر تھی اس طرح ایران کو اٹلی سے دو سالوں کے 45ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جو کہ حیران کن ہے۔اس طرح یہ آمدنی اب 440ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ایران کے دیگر یورپی ممالک سے بھی تجارت میں اضافہ ہوا اوریہ معاملات اب ایران تک محدود نہیں بلکہ اب یہ نارتھ کوریا قطر جیسے ملکوں میں بھی مغربی ممالک کی تجارت میں اضافہ ہوا ہے جو کہ امریکہ کا معاشی طور پر محاصرہ کرنے کی کوشش ہے ا سطرح ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے ایشیا افریقہ لاطینی امریکہ جو کہ مغربی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں ان کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان ممالک میں انتہا پسندی پیدا کی گئی اور ان ملکون کو بدامنی کی جانب دھکیلا گیا جبکہ ان خطوں میں سیاسی معاشی حالتیں تبدیل ہو رہی ہیں جو کہ اس نیو ورلڈ آڈر کے پنجہ سے نکنا چاہتے ہیں ۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے اور سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور ملک بنا جس نے دنیا میں تک طرفہ Unipolorنظام قائم کیا یعنی دنیا میں وہی ہو گا جو کہ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں اس بات کو نیوورلڈ آڈر سے تعبیر کیا جاتا ہے گزشتہ 5دہائیوں سے جاری استعاری اور نئی آبادی والے نظام کی بدترین شکل ان ممالک نے دیکھیں اب ایک مرحلہ ایسا آیا ہے کہ جب دنیا کسی اور تبدیلی اور بہتری کی امید سے مایوس ہو چکی ہے تو دوسری شکل میں نئی امیدیں بھی ابھر رہی ہیں دنیا برابری اور مساوات چاہتی ہے نئی طاقیتں خاص طور پر غیر مغربی سپر پاور سامنے آ رہی ہیں دنیا میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور غیر مغربی طاقتیں ترقی میں شرکت کا نیا نظریہ پیش کر رہی ہیں ان کے نزدیک جنگ اور نیو ورلڈ آڈر کے زمانہ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کو امریکہ کی سیاست میں پھنسے رہنے سے نقصان لاحق ہو سکتا ہے شاید اس لیے چین،روس،انڈیا،قطر پاکستان اور دیگر ابھرنے والی معشتیں تجارتی منڈیاں تبدیل کر رہی ہیں یورپی ممالک کے علاوہ غیر یورپی ممالک خاص طور پر مسلمان ممالک کی لیڈر شپ کو شاید اس بات کا ادراک نہیں جو کہ اب تک اس جال میں پھسنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کو شاید اس تبدیلی کا ادراک ہو چکا ہے مگر کیا وہ یہ فائدہ حآصل کر سکیں گے یہ تو وقت بتائے گا اس طرح تاریخ کا سفر جاری ہے پاکستان کی سیاسی اور غیر سیاسی قیادت کیلئے اس وقت بڑا امتحان ہے امریکی عوام کی اکثریت لاکھ کہے کہ ٹرمپ کی پالیساں اکثریتی عوام کی نمائندہ نہیں لیکن اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور وہ جو بھی پالیساں اختیار کریں گے وہی امریکی پالیسوں کا حصہ ہوں گی تاہم اقوام متحدہ کی ووٹنگ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسوں کے سبب اب امریکہ دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے اب امریکی تھینک ٹینک کس طرح دنیا میں ہونے والی اس تبدیلی کا مقابلہ کرتی ہے اور ایسا کیا خاص کرتی ہے کہ امریکہ پھر ایک بار بین الاقوامی دنیا پر اپنا وہ اثر برقرار رکھ سکے کہ وہ پوری دنیا کیلئے وہ قابل قبول ہو اس ضمن میں امریکی تھینک ٹینک کو بھی مستقبل کیلئے مساوات اور برابری کی پالیساں اختیار کرنا ہوں گی اور اگر امریکی انتظامیہ اپنی انتہا پسندانہ پالیساں برقرار رکھتا ہے تو اس سے نہ صرف دنیا کا امن تباہ و برباد ہو گا بلکہ اس سے امریکہ کو بھی مستقبل میں خطرات کا سامنہ کرنا پڑ سکتا ہے اقوام متحدہ میں جس طرح پوری دنیا نے ساتھ چھوڑ کر فلسطینیوں کی حمایت کیلئے ووٹ دیا یہ واقعی بقول نک ہیلی امریکہ کیلئے ایک یاد گار دن تھا اور اس دن سے امریکی انتظامیہ اور تھینک ٹینک کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

Check Also

وقت کے گھوڑے پر سوار عمران خان اورپاکستان کا مستقبل

وقت کے گھوڑے پر سوار عمران خان اورپاکستان کا مستقبل آئن اسٹائین کے نظریہ کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *