Home / قلم شرارے / فوج اور اسٹبلشمنٹ کو لولے لنگڑے حکمران کی تلاش

فوج اور اسٹبلشمنٹ کو لولے لنگڑے حکمران کی تلاش

جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں پاکستان کی سیاست میں اسہی طرح وقفہ وقفہ سے بھونچال جاری وساری ہے سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے گزشتہ دنوں سینیٹر اقبال حیدر کی یاد میں منعقد ایک تعزیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاق کے اوپر گہرے سیاہ بادل دیکھ رہا ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مزدوروں اور استادوں کے جلوس کو جس بیدردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گزشتہ دس دنوں سے جس طرح اسلام آباد اور راولپنڈی مفلوج ہو چکے ہیں انہیں ریاست نظر نہیں آتی ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک شخص(پرویز مشرف)کے اوپر آرٹیکل 6کے تحت عدالت میں مقدمہ داخل ہے جوکہ التوا میں پڑا ہوا ہے اور اس کے خلاف وارنٹ گرفتاری نکلے ہوئے ہیں مگر وہ ایک سیاسی الائنز کا سربراہ بنا ہوا ہے۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہں آ رہی کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟رضا ربانی نے جو کچھ کہا وہ کڑوا سچ ہے اور یہی حقیقت ہے اس وقت پاکستان کے سیاسی حالات ہوں کہ ہماری تہذیبی روایات ہماری قوم اس میں ترقی کرنے کی بجائے پستی کی طرف جا رہی ہے اس وقت ہماراجو حال ہے وہ ان ممالک کا بھی نہیں جنہوں نے اپنی ماضی میں بدترین جنگیں لڑیں ہیں گزشتہ 70سالوں میں نہ ہی ملک اپنا انفراسٹکچر بنا سکا ہے اور نہ ہی معیشت کو مضبوط کر چکا ہے یہی وجہ ہے کہ آنے والی ہر حکومت کو کشکول اٹھانا پڑتا ہے اور وہ عوام کی تکالیف کو بنیاد بنا کر پوری قوم کو قرض در قرض تلے دبائے چلے آ رہے ہیں صحت علاج معالجہ کا شعبہ ہو کہ تعلیم کا شعبہ ہماری قوم وہیں کھڑی ہوئی ہے لٹریسی ریٹ وہیں کا وہیں جما ہوا ہے ۔زراعت جو کہ ہمارے ملک کی پہچان اور شناخت سمجھی جاتی ہے وہ شناخت بھی ہم گنوا بیٹھے ہیں برآمدات کی بجائے درآمدات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان میں آرمی اور اسٹبلشمنٹ وہ جمہوریت چاہتی ہے جس میں ان کو کھلی چھوٹ ہو وہ حکمرانوں کو چلائیں کہ انہیں کیا کرنا ہے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وہ حکمران نہ ہوتے ہوئے بھی حکمران ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کے حکمران عوام پر تھوپنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا کاروبار زندگی چلتا رہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت 70سالوں میں اب بھی آمریت کی کاسہ نواز بنی ہوئی ہے تاریخ گواہ ہے کہ آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والے سیاستدان جب بلوغت کو پہنچتے ہیں اور انکا ضمیر بیدار ہوکر انکو اچھے برے کا احساس ہوتا ہے تو ان کی ڈور چلانے والے اس ڈور کو کھینچ ڈالتے ہیں اس وقت پاکستان کی حالت یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو ہم عوامی نہیں کہہ سکتے جو کہ معاشرہ میں تبدیلی لانے کا سبب بنی ہو کوئی بھی ایسا سیاسی رہنما نہیں کہ وہ سینہ ٹھوک کر کہہ سکے کہ وہ ایسی تبدیلیوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکی گا عوام ووٹ دیتے وقت اور اس بات کی امید کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ تبدیلی کا پیش خمیہ ہو گا مگر ایسا اب تک نہ ہو سکا سیاستدانوں نے جو وعدے کیئے جو انتخابی منشور دیئے اس میں عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے مگر عمل درآمد کسی پرنہ ہو سکا۔حکومت میں آنے کے بعد تمام حکومتیں عوام سے بیزار نظر آتی ہیں نہ وہ اپنے منشور پر عمل کر پاتی ہیں نہ ان کی ترجیح عوامی مسائل کو حل کرنے کی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتں ذاتی بینک بینلس اور جائیدادیں بنانے پر لگا دیتی ہیں اس طرح اعلی ایوان میں قانون سازی کے موقع پر بھی عوام کا خیال رکھنے کے بجائے کسی اور کا خیال رکھا جاتا ہے جس کہ وجہ سے ہمارے معاشرہ پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ملک افراتفری کا شکار ہے آج سینٹ کے چیئرمین کا یہ کہنا کہ پتہ نہیں کہ ہم کسی سمت جا رہے ہیں سیاسی شعور رکھنے والے افراد کیلئے ایک بڑا اشارہ ہے۔سینٹ کے چیئرمین کا عہدہ ایک بڑا عہدہ ہے اور اس عہدہ پر موجود ہونے والا چیئرمین یہ کچھ کہے تو واقعی یہ بات انتہائی الارمنگ ہے کہ ایک شخص جو کہ عدالتوں سے فرار ہے وہ مستقبل کیلئے سیاسی اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔
پاکستان کے حالات پر گزشتہ کئی دنوں سے میں نے کالم نہیں لکھا کیونکہ ذاتی طور پر میں پاکستان کی سیاست سے انتہائی دلبرداشتہ ہو چکا ہوں پاکستان کی سیاست میں آرمی اور فوج کا مسلسل رول میرے دلبرداشتہ ہونے کا بڑا سبب ہے پاکستان میں جب تک فوج نہیں چاہے گی اس وقت تک حالات جوں کے توں رہیں گے۔ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ ہو کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات اور عدالتوں کے ذریعہ نواز شریف کا حکومت سے انخلا اس وقت جنگ آرمی اور نواز شریف کے درمیان جاری ہے آرمی ملک میں مارشلا لانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر حکمراں پارٹی کو اپوزیشن بنائے ہوئے ہے میں نواز شریف کا حامی نہیں لیکن جس طرح اسٹبلشمنٹ اور آرمی اپنے مقاصد کیلئے عدالتوں کا استعمال کر رہی ہے وہ کسی صورت ملک اورقوم کیلئے خوش آئند بات نہیں اس وقت فوج اس لیے بھی پریشان ہے کہ ان کے مدمقابل کا تعلق بھی پنجاب سے ہے اگر نواز شریف کی جگہ کوئی اور لیڈر کسی چھوٹے صوبے سے ہوتا تو اس کا حشر بھی بے نظیر بھٹو جیسا ہو جاتا لیکن اب فوج کیلئے بھی پنجابی لیڈر اس طرح ہے جیسے سانپ کے منہ میں چھچھوندر،آرمی یا اسٹبلشمنٹ براہ راست پنجاب میں ایسی کوئی کاروائی نہیں کر سکتی جو کہ کراچی یا بلوچستان میں جاری کئے ہوئے ہے جبکہ ایک پنجابی کو ملک کا غدار بھی قرار نہیں دیا جا سکتا اس لیے وہ مسلسل ڈراموں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ اقساط روزانہ کی بنیادوں پر چل رہی ہیں اس لیے مجھے ذاتی طور پر اس سے کوئی خاص دلچسبی بھی نہیں کیونکہ ہونا وہی ہے جو فوج اور اسٹبلشمنٹ چاہے گی۔عمران خان جس سے عوام کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں وہ بھی اگر وزیر اعظم بن گیا تو حالات یہی رہیں گے فوج اور اسٹبلشمنٹ کو لولا لنگڑا وزیراعظم چاہیے جو کہ اسٹبلشمنٹ کی بیساکھیوں پر چل سکے اور جیسے ہی وہ معذور لولا لنگڑا روبصحت ہو کر اپنے پاں پر چلنے کی کوشش شروع کرتا ہے تو پھر واپس سے وہی پرانا کھیل شروع کر دیا جاتا ہے اشٹبلشمینٹ اسکو دوران اقتدار اسوقت کھلی چھوٹ دیتی ہے تب تک وہ کاسہ لیسی میں مصروف رہتا ہے اس دوران وہ جو چاہے کرے کرپشن کرے ملک لوٹے اور یہ سب کچھ کرنے اسلئے دیا جاتا ہے کہ وہ بعد میں اسکی پکڑ بھی کر سکیں یہ کھیل سب کے ساتھ کھیلا گیا وہی کھیل اب بھی جاری ہے مگر اداکار تبدیل ہو چکے ہیں۔

ملک اس وقت سیاسی،معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے اور بدقسمتی سے طاقت اور اقتدار دراصل فوج کے ہاتھوں میں ہے اس صورتحال میں عام آدمی کو پتہ نہیں کہ ملک کا اصل حکمران کون ہے اور کون حکومت کر رہا ہے اس لیے یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آخر اس ملک کی قسمت میں ایسا کیوں ہے جمہوری تسلسل کو ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہیں ہوئی ہے کہ عوامی اور پارلیمانی نظام کی کشتی ہچکولوں میں گھری ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کیلئے مشرف جیسے آمر کمر بستہ ہیں جنہوںنے پہلے بھی جمہوری نظام کی بساط لپیٹی اور ملک کو نقصان پہنچایا آج بھی ملک میں وہی پوشیدہ قوتیں سرگرم عمل ہو کر پھر سے ایک لولہ لنگڑا حکمران لانے کے چکر میں لگی ہوئی ہیں پاکستان میں جمہوری سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو اس کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے ایسی سیاسی پارٹیاں اور لیڈر کہاں سے آئیں جن کا ماضی داغدار نہ ہو اور جو حقیقاً عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور واقعی ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہوں…!!

Check Also

کلائی میں بندھی گھڑی سنجیدہ شخصیت کی عکاسی کرتی ہے

وقت کے تقاضوں نے انسان کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف مائل کردیا ہے لیکن کچھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *