Home / تازہ ترین خبر / نیا پاکستان اور جھوٹی جمہوریت کا کھیل تماشہ

نیا پاکستان اور جھوٹی جمہوریت کا کھیل تماشہ

نیا پاکستان اور جھوٹی جمہوریت کا کھیل تماشہ 

تحریر : راجہ زاہد اختر خانزادہ

ٰؒلیڈر وہی ہوتا ہے جو ناکامی کے سمندر سے گوہر نایاب تلاش کرتا ہے اور مایوسی کی گھٹا ٹوپ وادیوں میں امیدوں کے چراغ روشن کرکے قوم کو حونصلہ عطا کرتا ہے پاکستان میں جو سیاسی صورتحال گذشتہ دہائیوں میں رہی اس دوران قوم کو صرف عمران خان کی صورت میں ہی امید کی آخری کرن نمودار ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنی کر شماتی شخصیت کے ذریعہ نوجوان میں اُمید کی کرن نمودار کی ، نوجوان طبقہ انکے سحر میں مبتلا ہوا انہوں نے ملکی سیاست کے روایتی انداز تبدیل کیئے ۔ پاکستان میں مک مکاکی سیاست ، سیاسی میچ ،فکسز ۔ کرپشن کے رسیا چور سیاستدانوں کا محاصبہ کرنے کا اعلان کیا، اب وہ حکومت میں ہیں اور اب بھی کئی نوجوان دیوانہ وار ان سے امیدیں وابستہ کیئے ہوئے ہیں تاہم شاید انہیں نہیں معلوم کہ تحریک انصاف کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے طاقتور اشٹیبلشمینٹ سے اب  انکا گٹھ جوڑ  یارانے کی صورت موجود ہے،  گذشتہ ستر اکتھر سالوں سے جو کچھ چلتا چلا آرہا ہے وہ بھی اسہی نظام کا حصہ بن چکے ہیں، اسہی فارمولے کے تحت عمران خان کو اقتدار میں شراکت دی گئی ہے کہ وہ انکی مرضی اور منشا کے مطابق عنانِ اقتدار چلاتے رہینگے ، اسلیئے یہ توقع رکھنا کہ جو قوتیں انکو اقتدار میں لیکر آئی ہیں وہ انکو انکی مرضی کے مطابق وہ کچھ کرنے دینگی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ گذشتہ دنوں جب عمران خان نے اس بات کا برملہ اظہار بھی کیا مگر اسوقت وہاں بیٹھے ہوئے حاضرین نے انکی اس بات پر ایک بڑا قہقہ بلند کیا کیونکہ وہ اسکوشاید مذاق تصور کر رہے تھے حالانکہ وہ مذاق نہیں ایک حقیقت تھی جسکو انہوں نے بڑے اچھے انداز میں بیان کردیا تھا اس ضمن میں آپکو یاد ہوگا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے 100دنوں کی کارکردگی پر منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکے بقول کسی نے ان سے پوچھا کہ 100دن ہوگئے ہیں آپکو وزیر اعظم بننے تو آپکو کیا فرق نظر آرہا ہے میں نے اسے بتایا کہ کئی دفعہ گھر میں جب ٹی وی دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو بشریٰ بی بی بھی ساتھ ہوتی ہیں ٹی وی پر جب ظلم ہوتا دیکھتا ہوں تو غصہ چڑھتا ہے اور میں بشریٰ بی بی کو کہتا ہوں کہ دیکھو یہ کتنا بڑا ظلم ہے تو وہ کہتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں یعنی مجھے ابھی تک یہ بتانا پڑتا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں ۔۔

وزیر اعظم پاکستان کی اس بات کو عام افراد نے شاید مذاق سمجھ کہ نظر انداز کردیا ہوں لیکن دراصل یہ واقعی ایک کڑی  حقیقت ہے جسکو انہوں نے دوران تقریر بیان کردیا تھا اور سمجھنے والے افراد کیلئے یہ ایک بڑا اشارہ تھا ، اور جبکہ گذشتہ 6ماہ سے جو کچھُ سامنےنظر آرہا ہے وہ پاکستان میں ہمارے کمزور جمہوری نظام کی بڑی نشاندہی ہے بحیثت صحافی میں اس ضمن میں جو حالت ابھی سامنے ہیں اس میں عمران خان کو مکمل طور قصوروار بھی نہیں سمجھتا لیکن انہوں نے اقتدار میں شراکت کیلئے جو ڈیل کی ہے اس میں انکو ضرور  قصوروار گردانتا ہوں اس لیئے بعض اوقات انکی کئی گئی باتوں کو شوشل میڈیا پر شیئر کرکے عوام الناس کو یہ بات بتانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں کہ جس تبدیلی کے انتظار میں آپ سب لوگ انتظار میں ہیں اس میں آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کئی جذباتی لوگ میری اس بات کو پی ٹی آئی یا عمران خان پر حملہ تصور کرتے ہیں اور میری باتوں پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں تاہم  یہ انکا حق ہے مگر اسکے لئے ضروری ہے کہ یہ لوگ مزید مطالعہ کریں اور جو کچھ دیگر دانشور کہہ رہے ہیں انکی باتوں کو بھی سنجیدہ سمجھتے ہوئے اس پر تحقیق کی کوشش کریں عمران خان کی حکومت سے جو کچھ کرایا جارہا ہے وہ یقینن انکی پارٹی کا منشور نہیں تھا پھر آخر وہ سب کچھ کیونکر  ہورہا ہے ہمیں اسہی نقطہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کی سیاست کا اگر ہم قیام پاکستان سے لیکر ابتک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار کو کبھی بھی سول اور سیاسی قیادتوں کو مکمل طور پر پر منتقل نہیں کیا ،آپ شاید حیران ہوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے پاکستان بنایا تھا وہ بھی اس اقتدار میں شریک ضرور تھے مگر انکے پاس وہ اقتدار کی مکمل باگ دوڑ موجود نہیں تھی، انکے پاس وہ قوت نہیں تھی جوکہ در پردہ خفیہ ہاتھوں میں موجود تھی ، ایوب خان کے دورا قتدار میں جب فاطمہ جناح جو کہ آمر ایوب خان کے مقابلہ میں انتخاب لڑیں انکے ساتھ کیا کچھ اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کیا یہ بھی تاریخ کا ایک بھیانک  پہلو ہے فاطمہ جناح کو اس دوران انڈین ایجنٹ تک قرار دیا گیا کہ وہ بلوچوں کے ساتھ مل کر غداری کی مرتکب ہوئی ہیں، پاکستان کی اکتھر سالہ سیاسی تاریخ میں کئی سیاستدان اس شراکت اقتدار کا حصہ بننے جس میں ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف ، وہ وزیر اعظم رہے جنکو عوام کی واضع حمایت حاصل رہی ذوالفقار علی بھٹو نے انڈیا سے جنگ کے بعد  90ہزار فوجی قیدیوں کو نہ صرف بھارت سے رہائی دلوائی بلکہ شملہ معائدہ کے ذریعے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرایا مگر بدقسمتی سے شاید یہ سب کچھ کرکے وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عوام نے انکو جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے وہی انکی حقیقی طاقت ہے اسلیئے شاید انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ہی نہیں بلکہ عالمی طاقتورں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرٌات کرڈالی اسلیئے اسٹبلشمینٹ نے  اسہی سرپھرے بھٹو کو آئیندہ آنے والے سیاستدانوں کیلئے ایک مثال بنادیا، بےنظیر بھٹو اور اس سے قبل جس بھی سیاستدان نے اس اصول کو توڑنے کی کوشش کی اسکو انہوں نے  نہ صرف راستہ سے ہٹایا بلکہ سامنے آنے کی صورت میں صفحہ ہستی سے ہی مٹادیا ، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس اقتدار کی شراکت میں انہی سیاستدانوں کو اقتدار کا حصہ بناتی ہے جو کہ انکے نظریات انکے خیالات اور انکے معملات کو تحفظ فراہم کرانے کی یقین دہانی کراتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ صرف فوجی جرنیلوں پر مشتمل اسٹیبلشمینٹ کا نام نہیں بلکہ اس میں عدلیہ کے ججز ، بیوروکریسی کے اعلی افسران ، میڈیا کے نمائیندے ، عالم دین، اساتذہ ،ریٹائرڈ سول اور ملٹری بیورو کریسی کے ہم خیال وہ لوگ شامل ہیں  جوکہ یہ تمام معملات چلاتے ہیں، جب کبھی ٹاکس دیا جائے وہ اسپر عمل کرکے افراتفری کی مصنوعی صورتحال پیدا کردیتے ہیں،  وہ فوائد بھی حاصل کرتے ہیں مگر کوئی انکا بال بیکا نہیں کرسکتا، کیونکہ وہی تو ہیں جو اس اسٹیبلشمنٹ کو وہ قوت فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ چیلنج کرنے والوں کا قلع قمعہ کرتے ہیں اسمیں  صرف سیاستدان ہے شامل نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں موجود دیگر افراد بھی شامل ہیں جوکہ اگر انکے نظریات ، خیالات ، اور معملات میں تصادم کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان سے بھی نبٹا جاتا ہے۔ یہ لوگ یقیننا پاکستان کے خلاف نہیں ہوتے لیکن چونکہ اس

میں موجود  زیادہ تر اسٹیک ہولڈز کا تعلق بڑے صوبہ سے ہوتا ہے اسلیئے وہ چھوٹے صوبوں کو اپنا غلام تصور کرتے ہوئے انکا خیال نہیں کرتے جبکہ بعض اوقات نادانستگی اور تعصب میں ایسے فیصلے بھی کردیتے ہیں جوکہ مستقبل میں ہمارے ملک کیلئے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں اسکی مثال  ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معائدہ کے ذریعہ بھارت کو جو تین دریا دان کیئے گئے اور جو معائدہ کیا گیا اس کے اثرات چھوٹے صوبوں پر اب پڑنا شروع ہوئے ہیں  تاہم یہ معائدہ بھارت سے کیا گیا، اس طرح بنگلہ دیش کا قیام بھی اسٹیبلشمنٹ کا ایسا فیصلہ تھا جس سے پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچا اسطرح دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اکثریت نے اقلیت سے علیحدگی اختیار کی، اسطرح طالبان کی پیدائیش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کو ناتلافی نقصان لاحق ہوا، پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے جمہوری نظام کا تسلسل برقرار ہے پاکستان میں تیسری بار اقتدار کی جمہوری طریقہ منتقلی کا عمل بخیر و خوبی سرانجام دیا گیا وفاق اور صوبوں میں بظاہر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی ان قانون ساز اسمبلیوں میں کرتے نظر آرہے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ابتک عدم استحکام کا شکار ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ جمہوریت کو ابتک خطرات لاحق ہیں ؟ ملک کیوں ابتک عدم استحکام کا شکار ہے حالانکہ ملک میں آئین بھی ہے پارلیمنٹ بھی سینٹ ہے اور صوبوں میں اسمبلیاں بھی کام کررہی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ تبدیلی جسکا خواب عوام نے دیکھا تھا اسکی تعبیر بھیانک صورت انکے سامنے ہے موجودہ حکومت آخر کیونکر وہ کچھ ڈیلیور کرنے سے قاصر ہے جسکی اُمیدیں لگائے قوم انتظار میں تھی  ہمارے نوجوان اب بھی دیکھے گئے خواب کی تبدیلی کے آس میں مخالف سیاستدانوں کو برا بھکا کہتے ہوئے اسہی انتظار میں ہیں ، مگر وہ ناواقف ہیں کہ انکی تبدیل کب کی ہائیجیک ہوچکی ہے۔ اس ضمن میں 

حال ہی میں برطانوی جریدےاکنامنسٹ میں انکے انٹیلجنٹس یونٹ کی ایک رپورٹ شائع ہوئی جس سے شاید میرا یہ کالم پڑھنے والے اس امرکا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں اور انکو ان تمام سوالات کے جوابات بھی حاصل کرنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے جوکہ اوپر میں نے تحریر کیئے ہیں۔ برطانوی جریدے نے  پوری دنیا میں جمہورتیوں کی صورتحال سے متعلق یہ اپنی گیارہویں انڈکس شائع کی ہے جسکو ۔The Retredt Of Global Democracy Stopped in 2018

کا نام دیا گیا ہے اسکو آپ گوگل بھی کرسکتے ہیں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوری دنیا میں مجموعی طور پر سیاسی عمل میں شرکت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے یہ اضافہ اسلیئے بھی حیران کن ہے کہ ایک دھائی کے دوران پوری دنیا میں عام افراد کا جمہوریت پر اعتماد کم نظر آرہا ہے مذکورہ انڈکس میں عالمی سطحپر وہاں قائم  حکومتوں کو چا ر۔حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے جس میں 1مکمل جمہوریت ، 2 ناقص جمہوریت، 3نیم جمہوریت 4آمریت شامل ہیں جمہوریت کی صورتحال پرکھنے کیلئے ان مملک کو چھ درجہ بندیوں میں تقسیم کرکے اس کے تناظر میں ان ممالک کی مختلف درجہ بندیاں کی گئی ہیں ان درجہ بندیوں میں انتخابی عمل اور کثریت حکومتی نظام سیاسی شراک داری ،سیاسی و جمہوری کلچر ، انسانی حقوق اور شہری آزادیاں شامل ہیں ورلڈ انڈکس کے مطابق دنیا کے 167ممالک میں صرف 20ممالک ایسے ہیں جہاں پر مکمل جمہوریت ہے، پچپن مملک میں ناقص 

 جمہوریت ہے جبکہ 39ممالک میں نیم جمہوریت ہے اور  تریپن ممالک میں آمریتیں قائم ہیں مکمل جمہوریت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں نارواے پہلے نمبر پر جرمنی 13ویں برطانیہ 14ویں اور امریکہ 21ویں نمبر پر ہے دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار  بھارت کا شمار اس انڈکس میں ناقص جمہوریت والے ممالک میں 41ویں نمبر پر ہے تاہم پاکستان بد قسمتی سے اس سے بھی نچلی درجہ بندی میں نیم جمہوریت والے ممالک میں بھی بلکل نچلے درجے میں 112نمبر پر موجودہ ہے جس کے بعد صرف اور دو  ممالک موجودہیں جسکے بعد آمریتی ممالک کی فہرست شروع ہوجاتی ہے۔  اسہی ادارہ کی گذشتہ سال والی فہرست میں پاکستان 110ویں نمبر پر تھا اور نئی انڈکس میں وہ دو نمبر مزید پستی کی جانب چلا گیا ہے جبکہ بھارت اسوقت ناقص جمہوریتوں والے ممالک میں اکتالیسویں درجہ پر ہے جسمیں کل پچپن ممالک شامل ہیں تاہم  2016کے مقابلہ میں اس وقت بھارت  9درجہ پیچھے چلے گیا ہے مگر اب بھی وہ ان ممالک میں شامل ہے جسکو ناقص جمہوریت والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بھارت کا جمہوری نظام پہلے کے مقابلہ میں کمزور ہوا ہے لیکن پاکستان جوکہ پہلے ہی نچلے درجہ پر تھا  تھا وہ اور مزید پیچھے چلا گیا ہے جوکہ ایک افسوس ناک بات ہے پاکستان میں جمہوریت کی تنزلی میں جہاں سیاسی جماعتوں انکے رہنماؤں ، انکی کرپشن اور دیگر عوامل کارفرما ہیں وہاں اسٹیبلشمنٹ بھی اس عمل میں برابر کی شریک ہے موجودہ انڈکس کے حوالہ سے عالمی سطح پر پاکستان کیلئے یہ تاثر اُبھرکر سامنے آرہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ابتک اپنے پاﺅں مضبوط نہیں کرسکی ہے جوکہ سیاسی جدوجہد کرنے والے کارکنوں رہنماؤں اور سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد کیلئے لمحہ فکر یہ ہے اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ ہمارا ملک لگاتار بحرانوں کا شکار رہا ہے لیکن یہ بحران ہماری ہی حکومتوں اور اداروں کے پیدا کردہ تھے سویت یونین سے جنگ ، طالبان کی پیدائش سے لیکر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بین القوامی قوتوں کیلئے کرائے کے ٹٹو بننے تک جبکہ  سیاستدانوں میں رشوت خوری کی ترغیب دیکر انکو راشی بنانے تک نہ صرف ادروں کو بلکہ  پورے معاشرہ کو کرپٹ کیا اور اس دوران اگر جمہوری حکومتیں آئ بھی تو وہ اس کمزور جمہوری نظام کے اور حکومتوں کی ناقص کارکردگی ، رشوت ستانی کے باعث عوام کو کچھ نہ دے سکیں جسکے وہ انتظار میں تھے،اس دوران عوام کو بھی انکے اپنے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ان محرومیون اور خامیوں کی وجہ سے ہمارے سیاسی سماجی اور قومی اداروں میں موجود نظام اسوقت کھوکھلا ہوکر رہ گیا ہے ،یہی وجہ سے کہ جمہوری حکومتیں ہونے کے باوجود عوام انہی مسائل کا ابتک شکار ہیں بلکہ مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اسمیں مزید اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ لیکن لیڈر وہی ہوتا ہے جو ناکامی کے سمندر سے گوہر نایاب تلاش کرتا ہے آج اگر مایوسیوں کی گھٹا ٹوپ وادیاں ہمارے سامنے ہیں تو امیدوں کے چراغ بھی قوم کے حقیقی لیڈروں کو ہی جلانے ہونگے، لیکن اگر اقتدار گٹھ جوڑ اور مک مکا کے نتیجہ میں حاصل کیا جائے تو یقینا انکو یہی کہنا پڑ ے گا کہ“ ٹی وی دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو جب ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے اور قریبی بیٹھی ہوئی بشریٰ بی بی مجھے کہتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں ۔ بدقسمتی سے جب سیاستدان صرف اور صرف اقتدار اور اختیارات کیلئے مشروط سودے بازی کے ذریعہ شراکت اقتدار کا حصہ بنتے ہیں تو  یہی کچھ ہوتا ہے اور آئیندہ بھی ہوتا رہے گا اسکےلیئے ملک کے سیاستدان اگر اس بات پر متفق ہوجاتے ہیں کہ وہ اقتدار اسی صورت حاصل کریں گے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی بجائے صرف اور صرف عوام کو اسمیں شراکت دار کریں گے تو یقینا وہ سب کچھ وہی کرسکیں گے جسکا خواب انہوں نے اور عوام نے دیکھا ہوگا کیونکہ سیاست کا مطلب ہی عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کا نام ہے، اسلیئے سیانے یہی کہتے آئے ہیں کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بچھونا ہے اور یہ اقتدار بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ دنیا میں ہمارا شمار بدترین یا نیم جمہورتیوں والے ممالک میں ہے جہا ں پر کئی سورما لیڈر آئے مگر جب انہوں نے طاقتور وں سے پر اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ انکی اپنی ہی طاقت ہے تو وہ تاریخ میں تو امر ہوگئے مگر زندگیوں کی دوڑ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہار بیٹھے، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، اکبر بگٹی اور سینکڑوں ہزاروں سب آج ابدی نیند سورہے ہیں مگر انکا نظریہ آج بھی زندہ و جاوید ہے جسکی خاطر انہوں نے موت کو گلے لگایا۔ ملک میں اب بھی جمہوریت بمقابلہ جبر، ‏و عسکریت ، اکثریت بمقابلہ اقلیت,, اعتدال بمقابلہ شدت پسندی اور ،انگلی بمقابلہ انگھوٹھا، جاری ہے  میں پرامید ہوں کہ ملک میں  یقینا ایک دن انقلاب کی لہر اٹھے گی حق کا سورج طلوع ہوگا، لیکن اسوقت تک شاید ہم نہ ہوں۔ 

مگر بقول جالب یہ قوم کو ہی سوچنا ہوگا انکی نظم جمہوریت جنرل ایوب خاں کے اس دستور کے خلاف کھلا احتجاج تھا ۔ یہ نظم انکے دوسرے مجموعہ کلام ’’ سر مقتل ‘‘ میں شامل ہے جسے 1966میں ضبط کیا گیا ۔ یہ نظم معاشی نا برابری اور جبر و تشدد کے خلاف علم بغاوت تھی جوکہ آج کے حلات کی بھی مکمل غمازی کرتی ہے  ۔
یہ ملیں یہ جاگیر یں کس کا خون بیتی ہیں
بیر کوں میں یہ فوجیں کس کے بل یہ جیتی ہیں
کس کی محنتوں کا پھل داستائیں کھاتی ہیں
دس کروڑ انسانوں
زندگی سے بیگانوں
صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے
خاک اپنے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں
اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو
ہاتھ میں علم لے کر تم اٹھ سکو لوگوں
کب تلک یہ خاموش چلتے پھرتے زندانوں
جھونپڑوں سے رونے کی کیوں جدائیں آتی ہیں
جب شباب پر آکر کھیت لہلہاتے ہیں
کس کے نین روتے ہیں کون مسکراتا ہے
کاش تم کبھی سمجھو ، کاش تم کبھی جانو
دس کروڑ انسانوں

Check Also

الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری مسترد، حکومت اور اپوزیشن سے نئے نام طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کے معاملے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *