ڈالرز کے عیوض فروخت کئے گئے 4ہزار پاکستانی
امریکہ میں کئی سالوں پہلے جب ایک امریکی وکیل نے یہ کہا تھا کہ پاکستانی ڈالروں کی خاطر اپنی ماں کوبھی فروخت کرنے میں دیر نہیں لگاتا تو اس پر پورا پاکستان سروپا احتجاج تھا ہر شہر میں احتجاجی مظاہروں میں امریکہ کی مذمت کی جارہی تھی یہ تشدد واقعات میں کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جسکے بعد امریکی حکومت کو بیان جاری کرنا پڑا تھا کہ یہ ایک امریکی وکیل کا ذاتی تبصرہ تھا اسکا امریکی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ۔حال ہی میں گمشدہ افراد کے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائیر جاوید اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ مشرف دور میں سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پائونے 4ہزار پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا جس کے عیوض میں بھاری مقدار میں ڈالر وصول کئے گئے ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان 4ہزار افراد کو امریکہ کے سپرد کرنے کیلئے کتنے ڈالر وصول کئے ۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ پارلیمینٹ کو مشرف اورشیر پائو کے ان اقدامات کے خلاف تحقیقات کرنی چاہئے تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔اس طرح ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے ان افراد کو گم کیا گیا۔اوروہ یہ الزام آئی ایس آئی پر لگانا چاہتے تھے ۔انسانی حقوق کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائیر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے کئی افراد کو امریکہ کے حوالے کرنے کا خود بھی اعتراف کیا ہے۔اس لئے پارلیمینٹ کو ان اقدامات کے خلاف تحقیقات کرنی چاہیے۔دیکھا جائے تو قیام پاکستان سے لیکر ابتک پاکستان کو ہمیشہ خطرات میں گھرا ملک قرار دیاجاتا رہا ہے۔اور اس دوران آنے والی جمہوری حکومتوں کو مختلفحیلہ اور بہانوں سے گھر بھیجا جاتا رہا ہے اور ملک پر آ مرت کو مسلط کیا جاتا رہا ہے ۔ہر آنے والے آمر نے مذہب اور ریاست کی آڑ میں کئی دہائیوں تک اس ملک پر راج کیا ہے اور غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ملک کی عوام کو غلام بنانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔اور یہ شاید ملک اور عوام کی بڑی بد قسمتی رہی ہے کہ اس ملک میں اکثریتی حکمرانوں نے اقتدار لیتے ہوئے جوحلف لیااس حلف کی انہوں نے کبھی پاسداری نہیں کی اور ملک کی وفاداری کو ڈالروں کے عیوض میں فروخت کیا ملک ایک ماں کا درجہ رکھتا ہے اگر آپ کو اپنے ملک سے وفا نہیں تو آ پ ڈالروں کے عیوض ہر وہ کام کرسکتے ہیں جوکہ باشعور اور ترقی یافتہ قومیں اور ان کے لیڈر کسی طور سرانجام نہیں دیتے۔ غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں ہر آنے والے آمر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتی چلی آرہی ہیں اور ملک میں ترقی پسند اور جمہوری سوچ رکھنے والوںکو ان ہر ادوار میں سخت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے غیر ملکی طاقتیں ملک میں اپنا اثر و رسوخ بر قرار رکھنے کیلئے آمروں کو ڈالروں کے عیوض خرید کرتے رہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ وہاں کے شہریوں کو ڈالروں کے عیوض فروخت بھی کرتے رہے ہیں ۔اس طرح کی نیچ اور گری ہوئی حرکتوں کے نتیجہ میں ہی یہ ملک پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے ۔
جسٹس ریٹائیر اقبال جاوید نے صرف ایک آمر پرویز مشرف کے دور کا ذکر ہی کیا ہے جسمیں 4ہزار افراد کو غیر ملکیوں کو دینے سے متعلق یہ بڑا انکشاف افراد کرکے باشعور افراد کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ 2008سے لیکر ابتک اس ملک میںکئی حکمران آئے اور سابقہ اور موجودہ پارلیمینٹ سمیت ملک کئی باقی اداروں خصوصاََسپریم کورٹ جوکہ انسانی حقوق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی ذمہ دار ہے  ۔کیا ان کا یہ فرض نہیں کہ وہ ایسے حکمرانوں کا احتساب کریں اور عدالت انکو انصاف کے کٹہرے میں لیکر آئے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا اور ان افراد کے عیوض جو ڈالر وصول کئے وہ کہاں ہیں ۔ اور انہوں نے آخر کس قانون کے تحت  4ہزار شہریوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا۔ویسے تو ملک مین پارلیمینٹ اور آئین اور عدالتیںبھی موجود ہیں اور اُس وقت بھی موجود تھیں ۔جب مشرف جیسے آمر پاکستان پر حکمرانی کررہے تھے اور ان کی انفرادی پالیسیوں اور ذاتی مفادات کے تحت ملک کو جلایا جا رہا تھا ۔ایسی پالیسیوں کے سبب ہی تحت ہی ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر بدنام ہوا۔جبکہ عوام اپنے نہ کردہ گناہ کی سزا بھیگت رہے ہیں ۔ان آمروں نے جن کے سامنے ملک کی پارلیمینٹ،عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو کوئی اہمیت نہیں تھی۔انہوں نے اپنی ذاتی پالیسیوں کے سبب جو کچھ پاکستان کو دیا قوم اسکا پھل ابتک کھا رہے ہیں ۔کمیش کے سربراہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی این جی اوز پر بھی پابندی لگانے کی سفارشات کی ہیں ۔پاکستان میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح سیاستدانوں کا کڑا احتساب کیا جارہا ہے اسطرح آمروں کا بھی احتساب کیا جائے جنکے کالے کرتوتوں کے سبب ملک کو نا تلافی نقصان لاحق ہوا ہے۔اگر پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوتو پھر کسی کو بھی ریاستی اداروں کو غلام بنانے کی جرات نہ ہوگی ۔
جسٹس ریٹائیر اقبال جاوید نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم نے اپنے لا پتہ افراد کے معاملہ میں عدم دلچسپی سے کام لیا ۔سب جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کو حکومت کرنے کا بھی موقع ملا اور عشرت العباد گورنر سندھ بھی رہے لیکن اختیار ملنے کے باوجود بھی ایم کیو ایم نے اپنے لا پتہ افراد کی باریابی میں سنجیدگی نہیں دیکھائی ۔ایم کیو ایم کے بعض لاپتہ افراد کا 20سال گذرنے کے باوجود تاحال پتہ نہیں جبکہ عشرت العباد نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو پلاٹ اور ایک نوکری دی اور معاملہ ختم کردیا ۔انکا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے 14لاپتہ افراد کے کیسز کمیشن کے پاس ہیں ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک تجاوز کرگئی ہے۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔اسطرح انہوں نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد وشمار کو حقائق کے برعکس قرار دیا ۔جسٹس ریٹائیر اقبال جاوید نے جو کچھ کہا وہ پوری قوم کیلئے شرمناک حقائق ہیں لیکن اُنہوں نے جسطرح اس الزام کا سارا ملبہ ایم کیو ایم کی قیادت پر تھونپ دیا وہ بھی درست عمل نہیں ۔ایم کیو ایم یا دیگر سیاسی جماعتوں کو جو اقتدار آج تک دیا گیاہے اس سے ہم سب واقف ہیں ۔
پاکستان میں اصل حکمرانی خفیہ ایجنسیوں کی تھی اور اب بھی قائم ہے سیاسی رہنمائوں اور قائدئن کی کیا مجال کہ وہ ان خفیہ ایجنسیوں کا نام لیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر انکا نام لیں لیا گیا تو وہ سیاست دان ملک کا غدار قرار پائے گا  ملک اُسی صورت قائم رہتا ہے جب ہر کسی کو تحریر اور تقریر کی مکمل آزادی ہو۔اور ہر شہری کو بنیادی حقوق حاصل ہو ۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس آئین ،قانون ،پارلیمینٹ ،عدالت ریاست سب کچھ موجود ہے لیکن ریاست کے اندر جو ریاست کام کررہی ہے وہی اصل بُرائی کی جڑ ہے جسٹس جاوید اقبال نے اپنے انکشاف  میںاسکا الزام غیر ملکی ایجنسیوں پر عائد کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے پاکستانی آئی ایس آئی کو اس کام سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے اسکا ذمہ دار این جی اوز کو ٹہرایا ہے جو کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔تاہم اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے گمشدہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک تجاوز کرچکی ہے۔ایم کیو ایم کے کارکنان کو غیر ملکی ایجنسیاں اغوا نہیں کررہی ہیں بلکہ یہ بات ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ انکو اغوا کرنے میں کس کا کام ہے ۔ بہرکیف امریکی وکیل نے جو کچھ پاکستانی قوم کے بارے میں کہا تھا یہ رپورٹ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستانی واقعی وہ قوم ہے جو ڈالروں کیلئے اپنی ماں کو بھی فروخت کر دیتی ہے۔اس جملہ پر ہماری غیرت تو جاگ جاتی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنا ہی گریبان جھانکنے کی ضورت ہے مجھے غالب کی نظم آوقت یاد آرہی ہے جو کہ اس موقع کی مناسبت سے ہے۔ یہ نظم پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد لکھی
رہزنوں نے جو رہزانی کی تھی
رہبروں نے بھی کیا کمی کی تھی
ایک بار اور ہم ہوئے تقسیم
ایک بار اور دل ہوا نیم
یہ فسانہ ہے پاسبان کا
چاق و چوبند نو جوان کو
سرحدوں کی نہ پاسبانی کی
ہم سے ہی دادئی جوان کی