Home / تازہ ترین خبر / ڈفر جرنیل، چور سیاستدان اور نیا پاکستان

ڈفر جرنیل، چور سیاستدان اور نیا پاکستان

 ڈفر جرنیل، چور سیاستدان اور نیا پاکستان

تحریر:  زاہد اختر

پاکستان کی معروف قانون داں اور انسانی حقوق کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والی مرحومہ عاصمہ جہانگیر آج مجھے یہ کالم لکھتے وقت بہت زیادہ آ رہی ہیں وہ اس لئے کہ اپنی زندگی میں وہ ایک سخت جملہ فوجی جرنیلوں کے بارے میں کہا کرتی تھیں وہ یہ تھا کہ”فوجی جرنیل ڈفر ہوتے ہیں” انہوں نے یہ جملہ شاید کسی جرنیل کے منہ پر بھی کہا تھاوہ بڑی دبنگ خاتون تھیں، اس جملہ کے پیچھے یقینا ان کو کئی سالوںکا تجربہ بھی تھا، قیام پاکستان کے بعد بد قسمتی سے ہمارے ملک کی تاریخ بھی فوجی جرنیلوں کے ڈفر فیصلوں سے بھر پور ہے، پانی کی تقسیم کا معائدہ انڈیا سے ہو یا انہی کے دور میں سقوط ڈھاکہ یا پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں طالبان کی تشکیل کا معاملہ یابعد ازاںپرویز مشرف کے دور میں امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میںہر اول دستے کا کردار ادابہر کیف ان تمام فیصلوں کو عوام اور دانشور طبقہ ہمیشہ مسترد کرتے آ رہا ہے اور یہ فیصلے بقول عاصمہ جہانگیر کے” ڈفر جرنیلوں”کے تھے اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلے واقعی انتہائی غلط تھے، جس سے ملک اورقوم کو ناتلافی نقصان پہنچا پاکستان میں گوکہ جمہوری حکومت کام کررہی ہے لیکن اس بات کا ادراک سب کو ہے کہ اصل ڈور کس کے ہاتھ میں ہے، انتخابات میں جس طرح دھاندلی کر کے اور کچھ نشستوں میں ہیر پھیر کر کے عمران خان کو لایا گیا اس سے اس وقت صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ فوجی جرنیلوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ آئندہ کا حکمران عمران خان ہی ہوگا،لیکن عمران خان کے برسر اقتدار آ جانے کے بعد بھی جس طرح تواتر کے ساتھ آئی ایس پی آر کے سربراہ پریس کانفرنس میں جس طرح کی باتیں کررہے ہیں وہ اخلاقی اورقانونی طور پر درست نہیں، کیونکہ یہ ان کا مینڈیٹ نہیں لیکن فوج کے ترجمان اب کھلم کھلا وہ بیانات دینے لگے ہیں جو کہ وزیر دفاع یا وزیر داخلہ کامینڈیٹ ہے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ یا فوجی جرنیل کس ڈگر جا رہے ہیں، ان کی کیا حکمت عملی ہے، کسی کو کچھ نہیں پتا، انہوں نے پاکستان کا آغاز اقبال کے خواب سے کیا اور جناح کا پاکستان بناتے بنانے مدینہ پہنچ گئے، ملائیشیا اور ترکی والی حکمرانی کی ، وہ ہمیشہ مثالیں دیتے تھے مگر وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی نظام کامیاب ہو کیونکہ اس بات میں ہی ان کی کامیابی ہے کہ نظام کامیاب نہ ہوں،ان حالات کے باوجود اب بھی میںموجودہ حالات کا تمام تر ذمہ دار عمران خان کو نہیں سمجھتا لیکن عوام کی اکثریت یہ ضرورت سمجھتی ہے کہ عمران خان نے جو وعدے کئے تھے وہ ان سے وفا نہ کر سکے، ویسے بھی گزشتہ ستر سالوں سے حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی وہ برسراقتدارآتے ہیں تو انہیں سب چیزیں صرف اور صرف اگر انہیں جو چیز درست نظر نہیں آتی وہ اقتدار پر براجمان ان کے سیاسی مخالفین ہوتے ہیں لیکن اصل زمینی حقائق یہ ہیں کہ معاشی حالات اس وقت اس نہج پر ہیں کہ ایسے حالات کسی بھی ملک میں ہوں تو وہ بغاوتوںکو جنم دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس وقت نہ ہی پاکستان کا امیر طبقہ اور نہ ہی بیرون ملک رہنے والے لوگوں کا ، ان غریبوں سے کوئی تعلق ہے، جن کے پاس اس وقت نہ ہی پیٹ بھرنے کیلئے روٹی ہے اور نہ ہی علاج معالجہ کیلئے دوائیں لینے کی سکت ہے، اس طرح کے والدین بیچارے بچوںکو تڑپتا دیکھ کر بس اللہ سے دعا کے ذریعے شفا طلب کرتے ہیں، موجودہ دور میں حکومت نے جہاں اشیاء خوردو نوش میں اضافہ کیا، وہاں اب دوائوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، تعلیم کی صورتحال اور بھی بدتر ہے،لاکھوںبچے اسکول جانے کے بجائے اپنے والدین کے ہمراہ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں یا بعض بچے مختلف چیزیں بازاروں اور گلیوں میں فروخت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں، ہمیں معلوم ہے مگرشاید عام عوام کو اس بات کا بخوبی اندازہ نہ ہو کہ عمران خان وزیر اعظم کی کرسی پر تو برجمان ہیں مگر دراصل وہ بااختیار نہیں حالات یہ ہیں کہ وہ نہ اسٹیٹ بینک کا گورنر خود لگا سکتے ہے اورنہ ہی وزیر خارجہ اس کا ہے، چیئرمین FBRبھی کسی کے کہنے پراس نے لگایا ہے دوسری جانب حال ہی میں پٹرولیم مصنوعات پر نئے وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے 10فیصدی ٹیکس لگایا مگردلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر خازانہ نے اس ضمن میں کابینہ کو بتانے تک کی زحمت گوارا نہیں کی، جو کہ مختلف حکومتوںمیں اور مختلف اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں،جن کو عمران خان خود برا کہتے تھے اور ان پر تنقید کرتے تھے بہر کیف یہ موجودہ وفاقی کابینہ میں ان افراد کی اکثریت ہے، کابینہ گزشتہ کئی مہینوں میں کوئی ریلیف عوام کو نہیں دے پائی، اس طرح گزشتہ دنوںاپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمن نے حکومت گرانے کیلئے سیاستدانوں سے رابطے قائم کئے مگرایسا لگتا ہے کہ ز رداری نہیں چاہتے کہ یہ حکومت اتنی جلدی فارغ ہو جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور زرداری ایک پیج پر سمجھے جاتے ہیں، تا ہم یہ کھیل جن لوگوں کی جانب سے کھیلا جارہا ہے، وہ یقینا پاکستان کے دوست نہیںجس طرح میں نے اس کالم کی ابتدا میں تحریر کیاتھا کہ یہ ڈفر جرنیل جس طرح ملک  کو چلا رہے ہیں اس سے عوام کو مزید تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا، بعض دوستوںکا ایسے حالات کے بعد یہ سوچنا انتہائی درست ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک عوام کیلئے نہیں بلکہ ان جرنیلوںکیلئے معرض وجود میں آیا تھا پچھلے دنوں اس پر میں طنزیہ بھی لکھا تھا کہاگر یہ وطن تمہارا ہے ہم ہیں خامخواہ اس میں، بہر کیف اگر ہم سابقہ دفاعی بجٹ کا مطالعہ کریں تو مسلم لیگ کی حکومت کے دوران2013سے لے کر آخرتک دفاع کے شعبہ کا بجٹ تقریباً دوگنا کیا گیا،2013ء میں دفاع کا بجٹ627ارب روپے  تھا،2014ء میں 700، 2015 میں 780، 2016ء میں860جبکہ2017-18ء میں920ارب روپے رکھے گئے،940خرچہ کیا، اس طرح نواز شریف کے دور میں دفاعی بجٹ میں دوگنا اضافہ کیا گیا، اس طرح2018-19ء میں یہ دفاعی بجٹ اب گیارہ سو ارب تک پہنچ گیا ہے جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ سابق وزیر خارجہ اسد عمر کو اس لئے ان کے عہدے سے فارغ کیا گیاتھا کیونکہ انہوں نے فوجی بجٹ میں کٹوتی سے متعلق امریکی حکام کو یقین دہانی کرادی تھی تاہم جیسے ہی اس بات کی اطلاع جرنیلوںکو ملی انہوں نے فوری طور پر اسد عمر فارغ کرا دیا، دوسری جانب جرنیل بجٹ کے سلسلے میں پاکستانی میڈیا کے ذریعے یہ ہمیشہ بار آور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا بجٹ انڈین فوج سے پھر بھی کم ہے، لیکن عوام ان کی اس بات کے جھانسہ میں آ جاتے ہیں، حالانکہ اگر ہم درست موازنہ کریں توانڈیا کی فوج ہماری فوج کے مقابلے میں عدوی حیثیت سے بہت زیادہ ہے اور انڈیا آبادی کے لحاظ سے بھی دنیا کا دوسرابڑا ملک ہے ، اس لئے اس سے موازنہ کر کے اپنا بجٹ ان کے مقابلے دکھانے کا مقصدجرنیلوں کی ان عیاشیوں کو برقرار رکھنا ہے جوکہ عرصہ دراز سے چلتی چلی آ رہی ہے، اس وقت پاکستان آرمی میں2فل جرنیل،29لیفٹیننٹ جرنیل،194میجر جرنل ہیں جبکہ9کورفوج کیلئے30لیفٹیننٹ جرنل ہیں،18 ڈویژن کیلئے166میجرجنرل اس کے علاوہ ان کے نچلے عہدوں جس میں برگیڈئیر، کرنل،لیفٹیننٹ ،کرنل، میجر تک کا حساب لگا لیں اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدے پر بھی میجر جنرل تعینات کیا جاتا ہے، کسی زمانہ میں یہ عہدہ ایک کرنل رینک کے آفیسر کے پاس ہوتا تھا، بہر کیف ان افسران کا آپ حساب لگا لیں کہ یہ جرنیل سے لے کر میجر تک تمام افسران پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، میں کیپٹن اور اس کے نیچے کے افسران اور جوانوں کی بات نہیں کرتا، ان بچاروں کو وہ مراعات حاصل نہیںجو کہ میجر اور اوپر تک کے رینک کے افسران کو ملتی ہے اگر عوام کو حقیقت سامنے نظر آ جائے تو ان جرنیلوں کے مقابلے میں ان کو سیاستدان زیادہ اچھے لگنے لگیں گے،یہ ڈفر فوجی کھاتے بھی عوام کا ہیں اور غراتے بھی عوام پرہیںیہ لوگ تنخواہوںکے علاوہ جو مراعات جس میں دوران ملازمت مفت رہائش، بنگلہ، مفت بجلی،پانی، گیس،سی130طیارے اور پورے ملک سمیت باہر جانے پرمفت سفری سہولت پی آئی اے،ریلوے میں رعایتی ٹکٹ، گھرپر ذاتی ملازم جس کو بٹ مین کہا جاتا ہے،برگیڈ اور اس سے اوپر کے عہدوں کے افسران کیلئے اسٹاف کار (سرکاری گاڑی) بچوںکیلئے آرمی پبلک سکول،انٹر کالجز، بحریہ سکول،PAFاسکول،یونیورسٹی، انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹی، آرمی میڈیکل کالج، آرمی کے اسپتالوں میں پورے اہل خانہ کا تاحیات مفت علاج، ریٹائرمنٹ کے بعد تمام جائیدار وویلتھ ٹکس سے مستثنیٰ،فلیٹ ولاز،دکانیں، پلاٹ،مربے اور سونے پر سہاگہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انکو سرکاری اداروںکا سربراہ بھی لگا دیا جاتا ہے، شہدائوں کے نام کی آڑ میں ان فوجی افسران  کے بچوں کی فلاح وبہبود کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے قائم ہیںجس میں بینک، انشورنس کمپنیاں فرٹیلائزر،سیمنٹ، سریے کی فیکٹریاں، ڈیری فارم، شوگر ملز،ٹیکسٹائل ملز،مرچ مصالوں کی فیکٹریاں، پیٹرول پمپ، بیکریاں اور شادی ہال،مویشی منڈیاں،پانی کے ٹینکر ہر کچھ چھوٹے صوبوں میںہے، پاکستان کی معیشت تباہ ہے مگر انکو کوئی فکر نہیں،امن وامان کے نام پر یہ چھوٹے صوبوں میں رینجرز کی صورت میں وہاں کا نہ صرف مقامی بجٹ بھی ہڑپ کر جاتے ہیں، بلکہ ان صوبوںمیں ان لوگوں کی آواز کو بھی دباتے ہیں جو کہ ان کے خلاف اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلندکرتا ہے، وہ اس کو ملک کا غدار گردانتے ہیں، ان پرمختلف الزامات لگا کر ان کو کئی کئی سالوں ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے غائب کر دیا جاتا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے سیاستدانوں ،صحافیوں کوانڈین ایجنٹ قرار دے کر ان کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ بدنام کیا جاتا ہے ان کو غدار یا کرپشن کا پروپیگنڈا کر کے وہ ماحول بنایا جاتا ہے، جس سے عوام میں ان کے لئے نفرت جنم لینا شروع ہو جاتی ،دوسری جانب آپ کو یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں شہدا کے نام پر لی جانے والی قیمتی شہری زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہے اور یہی کام اگر عام شہری کرے تو اس سے پوچھا جاتا کہ آپ کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی سوچتا ہوں یہ کیسی ریاست ہے جہاںپر فلاح وبہبود صرف فوجی افسران کیلئے ہے، ملک عنان اقتدار بظاہر کسی کے پاس ہو مگر اصل حکمران یہی رہتے ہیں،یہ سیاستدانوںکو خود اس بات کے مواقع فراہم کراتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کرپشن کریںاگر کوئی یہ نہیں کرتاتو ان کے پاس ملک غداری کا ایک ایسا فتوا  بروقت موجود رہتا ہے جو کہ فوری طور پر پر فٹ کر دیا جاتا ہے، محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین گزشتہ ادوار میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ طے پایا تھا وہ ملک کے بہتر مفاد میں تھا مگر محترمہ کو بھی انہی جرنیلوں نے اپنے پالتووں کے ہاتھوں شہید کرا دیا،اس وقت آصف زرداری اسٹیبلشمنٹ کے ہمنوا بھی ہیں اور ان کو آنکھیں بھی دکھاتے ہیں، جبکہ نواز شریف نے اپنے دور میں فوجی جرنیلوں سے ڈکٹیشن نہ لینے کا جو عہد کیا اس سے ان کو نقصان بھی لاحق ہوا نہ صرف ان کووزارت عظمیٰ بلکہ وہ آج کل جیل کی سلاختوںکے پیچھے بھی ہیں، یہی نوواز شریف اگر آج فوجی جرنیلوں سے ساز باز کر لے تو کچھ ہی دنوں بعد ہی یہ فرشتہ صف سیاستدان بھی ثابت ہو جائے گا، اسٹیبلشمنٹ نے اس بار جس تیسرے کھلاڑی کو کھیل میں شامل کر کے عنان اقتدار اس کے حوالے کیا ہے ،ناتجربہ کاری کی بنیاد پر فائول پر فائول کیے جا رہا ہے، جس سے ملک کو ناتلافی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے، جس طرح میں نے اپنے کالم کے ابتدا میں تحریر کیا ،یہ ڈفر فوجی جو کچھ کررہے ہیں وہ ہمارے ملک کیلئے کسی طورساز گار بات نہیں،ان کی جانب سے لائی گئی ،حکومت جن وعدوں کے ساتھ برسر اقتدار آئی تھی ،اس میں سے کوئی وعدہ وفا نہیںکر سکی،اس وقت اسٹاک مارکیٹ سجدہ ریز ہے، ڈالر اور مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، آئی ایم ایف کے نمائندوں کو اپنا نمائندہ بنا کر عہدوںپر لگا دیا گیا ہے، قرضہ لینے سے قبل ہی اتنہائی مہنگائی کر دی گئی ہے کہ اللہ کی پناہ، بجلی،گیس، پٹرول ، دوائیں، اشیائے خوردونوش سب کی قیمتیں آسمان پر ہیں اورجس طرح کا احتساب ہو رہاہے وہ بھی سب کے سامنے ہے، ایک طرف بات کی جاتی ہے کہ این آر اونہیں دیا جائے گا تو دوسری جانب لوگوں کو باہر جانے کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں، داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی صورتحال فاٹا کے عوام کا سڑکوںپر آنا پورے پاکستان سے سیاسی کارکنوں کو غائب کرنے کا جو عمل جاری اورساری ہے، اس سے ملک کی وحدت پارہ پارہ ہو رہی ہے، بین الاقوامی برادری آپ کی غلط خارجہ پالیسی کے سبب آپ کے ساتھ نہیں، سعودی عرب جس کے ساتھ ساتھ آپ ہوتے ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خا ن عوام کواس ضمن میں اعتماد میںلیں، جھوٹ اور جعلی تسلی اوردلاسے دلا کر آپ قوم کو کب تک بیوقف نہیں بنا سکتے، اس لئے تو عوام آج یہ کہنے پرمجبورہو رہے کہ اس سے توبہترتو وہ چورتھے جن کے دور میں باوجودڈالر چوری کرنے کے پیٹرول، گیس اور اشیائے خوردونوش سب سے کنٹرول میں تھے، جی ڈی پی اور معیشت کا گراف بھی اوپر کی طرف اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، ان تمام حالات سے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب عوام خود جیل کا دروازہ توڑ کر نواز شریف کو اقتدار میں لانے کیلئے سڑکوں پر نہ آ جائیں ۔

Check Also

مقبوضہ کشمیر: 550 فوجی روبوٹس کی خریداری شروع

سری نگر: بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کے دوران روبوٹ استعمال کرے گی۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *