Home / جاگو کالمز / کیا مسلمان واقعی عنقریب راکھ میں تبدیل ہو جائیں گے؟

کیا مسلمان واقعی عنقریب راکھ میں تبدیل ہو جائیں گے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی باگ دوڑ سنھبالنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے یہ ان کی پالیسوں کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں آباد ان سے کسی خیر کی امید نہیں کرتے ٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں آنے کے بعد پہلے عرب ممالک کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوششیں کیں جس کے بعد مسلسل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ وہ یوروشیلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے بطور تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس طرح انہوں نے حال ہی میں اسرائیل کے شہر تل ابیب سے امریکی سفارتخانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے۔گو کہ ان کا یہ اعلان جانبداری پر مشتمل ہے اور امریکی انتظامیہ کے اس اقدام سے بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں فلسطینوں کا مسلم شدہ حق متاثر نہیں ہوتا نہ ہی اس فیصلہ سے زمینی حقائق تبدیل ہوں گے تاہم اس سے امن قائم کرنے کی کوششیں ضرور سبوتاز ہوں گی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عمل سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں جانبدارانہ رویہ رکھتے ہیں مجھے اس وقت سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا امریکی میڈیا کو دیا گیا ایک تازہ انٹرویو یاد آ رہا ہے جس میں انہون نے کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔جس کے نتیجہ میں مسلمان راکھ میں تبدیل ہو جائیں گے۔اس انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ایران سے ہو گا اس دوران اسرائیل زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر کے آدھے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کر لے گا۔سٹریجٹک اہمیت تیل اور دوسرے اقتصادی وسائل کی وجہ سے اسرائیل سات عرب ممالک پر قبضہ کرے گا ان کا کہنا تھا کہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے چین اور روس کسی قابل نہیں رہیں گے اور امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ جیت جائیں گے۔ہنری کسنجر کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بچ چکا ہے اور جو اس کو نہیں سن رہے وہ بہرے ہیں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ کے نوجوان گزشتہ دس سالوں سے پوری طرح تربیت حاصل کر ہے ہیں اور جب بھی ان کو حکم دیا جائے گا وہ پاگلوں کی طرح لڑیں گے اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے۔امریکہ اور اسرائیل نے روس اور ایران کیلئے تابوت تیار کر لیے ہیں اور ایران اس کے لیے آخری کیل ثابت ہو گا تیسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں صرف ایک سپر طاقت کی حکومت ہو گی اور وہ ہے امریکہ۔ہنری کسنجر چونکہ خود بھی یہودی ہیں اس لیے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنا دے پر اپنا باطن ظاہر دیا ہے جبکہ اپنے اس بیان کے دوران انہوں نے وہ سب کچھ اگل کر رکھ دیا ہے جو کہ بارش کی جا رہی ہے تاہم ہنری کسنجر کوئی معمولی شخصیت نہیں یہ صدر رچرڈنکس کے دور میں امریکہ کے وزیر خارجہ تھے یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو گورنر ہائوس لاہور میں کہا تھا کہ ”ہم تمیں بدترین مثال بنا دیں گے” ہنری کسنجر امریکی وزیر خارجہ بننے سے قبل امریکہ کی نیشنل سیکروٹی بطور ایڈوائزر بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں جبکہ 1973میں ان کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔موجودہ صدر ٹرمپ نے بھی 10مئی 2017ء کو ان سے ملاقات کی تھی جس کے بعد دوسری ملاقات حال ہی میں انہوں نے 17نومبر 2017ء کو کی جس میں ٹرمپ نمے ان سے عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہنری سے متعلق یہ بات بھی کافی مشہور رہے کہ مشورے دینے میں وہ بڑی ہی ایمانداری سے کام لیتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کو جس دھمکی کا میں نے ذکر کیا ہے یہ وھمکی انہوں نے ایٹمی پروگرام کو رول بیک نہ کرنے پر ان کو دیا تھا۔اس طرح وہ اس وقت پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مخالف تھے تاہم جب 1998ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دی اتو ایک پاکستانی سفارتکار نے ان سے مشورہ طلب کیا کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے انتہائی ایماندارانہ مشورہ دیا تھا کہ آپ کے ملک کو بھی اب ایٹمی دھماکہ کر دینا چاہیے۔جس پر پاکستانی سفارتکار نے کہ اکہ اس کے نتیجہ میں امریکہ پاکستان کا دشمن بن جائے گا اس پر ہنری کسنجر نے کہا کہ اگر آپ امریکہ کے دشمن ہیں تو خطرہ میں ہیں لیکن اگر امریکہ کے دوست ہیں تو پھر آپ انتہائی خطرہ میں ہیں ۔بہر کیف صدر ٹرمپ جن کو بین الاقوامی تعلقات کا ذرا بھی تجربہ نہیں ظاہر ہے وہ موجودہ پالیساں کسی کے کسی مشوروں سے ہی بناتے ہوں گے اور میری ناقص رائے کے مطابق ان کے ان مشوروں میں ہنری کسنجر بھی پیش پیش ہیں۔اس ضمن میں ہنری کسنجر نے اپنے انٹرویو میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ جھوٹ یا لغو نہیں بلکہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس پر مجھے سو فی صدی اس لیے بھی یقین ہے کہ اسرائیل جس طرح جارحانہ طریقہ سے اپنی پالیسوں پر عمل پیرا ہے اس سے مستقبل قریب میں ایسا لگتا ہے کہ وہ مسلمانون کے گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے اور وقت آنے پر وہ اپنے اس خواب کی تکمیل کو مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کرئے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جس طرح یہ مشکل فیصلہ کیا ہے اور اس کو امریکہ کی پالیسی کا حصہ بھی قرار دیا ہے وہ بین الاقوامی اتفاق رائے کی سراسر نفی ہے جبکہ عرب ممالک اس سلسلہ میں پہلے ہی آگاہی دے چکے ہیں کہ اس طرح کے فیصلہ کے نتیجہ میں مسلم دنیا میں تشدد کو فروغ ملے گا۔گو کہ سعودی عرب نے بھی اس ضمن میں روایتی بیان بازی سے کام لیا ہے مگر اندرون خانہ یہ حقیقت پتہ نہیں کہ وہ ہاتھی کے دانت دکھانے اور کھانے کے اور کے مصداق لوگ صرف بیان بازی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ حال ہی میں کئی ملین ڈالر کا اسلحہ انہوں نے امریکہ سے حاصل کیا جس کو خرید کرتے وقت امریکہ نے یہ شرائط عائد کی تھی کہ وہ سعودی عرب یہ اسلحہ اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں کرئے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسلحہ آپس میں ہی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو گا۔انتہائی دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اگر ہم اسرائیل کے انتہائی قریبی دوست ممالک کی فہرست پر نظر ڈالیں تو اس میں امریکہ،کینیڈا،میکسو،انڈیا سمیت دو عرب ممالک مصر اور شام سرفہرست ہیں جو کہ کسی زمانہ میں اس کے دشمن تصور کیے جاتے تھے۔جو کہ اب اس کے دوست ممالک میں مینمار،سائوتھ افریقہ،کمبوڈیا،چائنا،ہانگ گانگ،نیپال،سنگاپور،ارمسنا،اٹلی،نیدرلینڈ،ناروے،اسپین،یوکرائن،آسٹریلیا،جرمنی شامل ہیں جبکہ فلسطینوں کے کھلے دوستوں میں تمام عرب ممالک شامل ہیں مگر کئی عرب ممالک اس کے منافق دوستوں میں شامل ہیں جو کہ بظاہر کو دوستوں کی فہرست میں موجود ہیں لیکن ان کے ہر عمل سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی اور کے ایجنیڈا پر عمل کر رہے ہیں ۔جو ممالک فلسطینوں کے دوست سمجھے جاتے ہیں ان میں جس طرح میں نے عرض کیا تمام عرب ممالک ایران،پاکستان،مراکو،تنشیتا،افغانستان،بنگلہ دیش،نارتھ کوریا،آئرلینڈ،روس،سوئیڈن شامل ہیں۔اقوام متحدہ کا ادارہ گو کہ ایک عالمی تنظیم ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارہ بھی سپر پاور اور بین الاقوامی قوتوں کے ایک آلہ کار کے بطور اپنی خدمات سر انجام دیتا ہے اس کی قراردادیں کمزور اقوام کیلئے صرف قراردادیں بلکہ رہ جاتی ہیں جبکہ طاقتور ممالک ان قراردادوں کا سہارا لے کر فوری کاروائی کر گزرتے ہیں اور اپنے من مانے نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی سفارتخانہ کو یروشیم منتقل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس پر فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالہ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے کے نیتجہ میں نہ صرف خطہ میں بلکہ دنیا بھر میں امن سلامتی استحکام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔مغربی ممالک کے رہنمائوں سمیت دیگر عالمی برادری نے بھی اس فیصلہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم باوجود اس کے امریکہ وہ پہلا ملک قرار پا گیا جس نے یوروشلم کو اسرائیل کے دارلحکومت کے بطور تسلیم کر لیا ہے اور اپنے اس کام کی تکمیل کیلئے ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔اسرائیلی اور فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنا شہر قرار دیتے ہیں اور یہ تکرار عرصہ دراز سے چلتی چلی آ رہی ہے یروشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان رسہ کشی اور کھینچ تان کا ایک بڑا سبب ہے مذہبی لحاظ سے یہ شہر مسلمان یہودی،عیسائیوں کیلئے انتہائی کا حامل ہے۔حضرت ابراہیم سے سلسلہ جوڑنے والے یہ تینوں مذہب یروشلم کو مقدس جگہ کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے اس شہر کا نام تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے دل میں نقش ہے اس شہر کو عبرانی زبان میں یروشلائم عربی میں القدس کہتے چلے آ رہے ہیں اور یہ دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے۔اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا مسمار کیا گیا اور پھر دوبارہ آباد کیا گیا۔یہ شہر تاریخ میں مختلف مذاہبووں کے پیروکاروں کے درمیان تقسیم اور تکرار کا بڑا سبب ہے۔شہر کے مرکز میں ایک قدیمی شہر ہے جو کہ تاریخی فن نمونہ سے مالا مال ہے۔یہ شہر آرمینائی ،مسیحی ،اسلامی اور یہودیوں کے درمیان آبادیوں میں منقسم ہے جس کے چاروں اطراف دیواریں ہیں جس میں کئی مقدس مقامات موجود ہیں سب سے بڑا علاقہ مسلمانوں کا ہے وہیں مسجد اقصیٰ واقع ہے۔جس کو بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے مسجد اقصیٰ اسلامی اہمیت کے حوالے سے تیسری بڑی مقدس جگہ ہے جہاں پر ہزاروں مسلمان روزانہ آ کر نماز ادا کرتے ہیں جبکہ نماز جمعہ کے وقت یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے جس طرح یہ شہر مذہبی طور پر اہم ہے اس طرح سفارتی طور پر بھی اس کی بڑی اہمیت ہے اسرائیل اس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اسرائیلی جو کہ 1948ء میں معرض وجود میں آیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ شہر کے مغربی علاقہ میں واقع ہے جبکہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلیم پر قبضہ کیا تھا جبکہ اس دوران قدیمی شہر بھی ان کے قبضہ میں آ گیا تھا تاہم بین الاقوامی طور پر اس قبضہ کو تسلیم نہیں کیا گیا اس طرح یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کی بین الاقوامی برادری نے کبھی بھی حمایت نہیں کی جس پر اسرائیلی رہنما ہمیشہ مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔فلسطینوں کا موقف ہے کہ یروشلم مستقبل میں ان کا دارالحکومت ہو گا۔فلسطین اور اسرائیل کے مابین ہونے والی کشمکش کو دو قومی نظریہ کے بطور کبھی دیکھا جاتا ہے اس کے تحت 1967ء سے پہلے سرحد پر ایک آزاد فلسطینی ملک کی تعمیر کا خیال ابھر کر سامنے آیا جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ یروشلم کا تیسرا حصہ فلسطینی آباد ی ہے جس میں کتنے ہی خاندان صویوں سے آباد ہیں یہی وجہ ہے کہ شہر کے مشرقی حصہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی چپقلش کا بڑا سبب ہے بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ تعمیرات غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس کے ماننے پر تیار نہیں بین الاقوامی برادری عرصہ دراز سے یہ کہہ رہی ہے کہ یروشلم کی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی صرف امن مذاکرات سے ہی آ سکتی ہے جبکہ تمام ممالک کے سفارتخانہ بھی تل ایب میں واقع ہیں اور یروشلم میں صرف قونصل خانے موجود ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کے انہوں نے جو احکامات جاری کیے ہیں اس کو منتقل کرنے ہیں ان کا چھ ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔دوسری جانب یہ بھی حقیت ہے کہ اسرائیل کا رقبہ ہمسایہ عرب ممالک کے علاقوں پر قبضے کے بعد وسیع ہو گیا ہے جبکہ اور کئی عرب ملک سکٹر کر رہ گئے تاہم مصر نے اپنے علاقے امریکہ کی معاونت سے واپس لے لیے جس پر اسرائیل نے جنگ رمضان کے دوران قبضہ کر لیا تھا اس جنگ میں مصر کا پلڑا بھاری تھا لیکن جب امریکہ کو اس بات کا احساس ہوا کہ اسرائیل ان کے مقابلہ میں کمزور پڑ رہا ہے تو وہ یکدم حجابات کی دنیا سے نکل کر ببانگ دھل سامنے آگئے اور اس طرح جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔تاہم بعدازاں مصر کو اپنے علاقے واپس لینے کیلئے اسرائیل کے ساتھ ان کی شرائط پر تعلقات قائم کرنے پڑے۔اس طرح فلسطین کی ناکہ بندی کے دوران مصر کے ساتھ ملنے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا جس کے ذریعہ فلسطینوں کو ہنگامی امداد فراہم کی جاتی تھی۔
ماضی میں فلسطینوں اور ان کے حامی عرب ممالک سے کہا جاتا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین دو آزاد خود مختار ریاستوں کا تصور قبول کر لیں تاہم فلسطین اور عرب ممالک نے یہ پیشکش ناضی میں مسترد کر دی تھی اگر فلسطینی یہ حل مان لیتے تو بہتر ہوتا مگر اب عرصہ دراز گزر جانے کے بعد وہ یہ حل مانتے ہیں تو اسرائیل اس کو مسترد کر دیتا ہے کیونکہ وہ پہلے کے مقابلہ میں اب انتہائی طاقتور ہے کوئی بھی عرب ملک اسرائیل پر حملہ کر کے اس کو ختم کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتا جبکہ یہ بات بھی غیر عرب ملک ایران نے کہی اور سابق صدر احمد نژاد کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ایران کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔
ہنری کسنجر نے جو کچھ اپنے انٹرویو میں کہا یہ مسلمان حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے تاہم مسلمان جس طرح فرقہ بازی میں مبتلا ہیں اس سے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہنری کسنجر نے اپنے انٹرویو میں جو کچھ کہا وہ بالکل درست اور حالات کے عین مطابق ہے اسرائیل پاکستان کے خلاف بھی انڈیا کے ساتھ مل کر جو کچھ کر رہا ہے وہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ایٹم بم موجود ہے اور یہ واحد اسلامی ملک ہے جو کہ فلسطینوں کا دوست ملک ہے لیکن جو پالیساں قائم و دائم ہیں اس سے لگتا ہے کہ مسلمان واقعی تباہی کے دہانے پر موجود ہیں اور مسلمانوں کو راکھ میں تبدیل کر دینے کا عمل اپنی پالیسوں کے ذریعہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔القاعدہ،داعش جیسی تنظیموں کا وجود اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اگر مسلم ممالک اپنے تنازعات کو فراموش کر کے آئندہ مستقبل میں حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو اسرائیل کے عزائم ہنری کسنجر کی زبانی ہمارے سامنے موجود ہیں اور اس پر کسی بھی وقت عمل درآمد ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم میں سفارتخانہ کے قیام کا اعلان بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔مسلمان اقوام کی تباہی کیلئے جہاں دیگر قوتیں کام کر رہی ہیں اس میں مسلمانوں کی بڑی تباہی کے ذمہ دار مسلمان خصوصا عرب ممالک کے کرتا دھرتا ہی ہیں کیونکہ وہ اپنی بادشاہی بچانے کیلئے اور جس چھوٹے فائدہ کو حاصل کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں وہ نہ صرف فلسطین بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان نسلوں کے مستقبل کے لیے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہو گی اور بقول علامہ محمد اقبال…
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Check Also

علائو الدین ہمدم خانزادہ…محبتوں کے سفیر

تحریر:اقبال حیدر جب بھی آغاز کار کرتے ہیں ذکر پروردگار کرتے ہیں پھر درود و …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *