Home / جاگو ڈیلس نیوز / امریکہ کے دنیا کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات پر سب کو تشویش لاحق ہے رکن کانگریس ایڈی برنیس

امریکہ کے دنیا کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات پر سب کو تشویش لاحق ہے رکن کانگریس ایڈی برنیس

 ڈیلس(راجہ زاہد اختر خانزادہ)امریکی کانگریس میں گزشتہ 25سالوں سے منتخب ہونے والی رکن کانگریس اور کانگریس میں پاکستان کاکس کی رکن ایڈی برنیس جانس کا کہنا ہے کہ کانگریس میں اور عوام میں امریکہ کے دنیا کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات پر سب کو تشویش لاحق ہے موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ میری سمجھ سے باہر ہے ڈیلس میں خصوصی انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ 2010 کے انتخابات میں منفی رحجان رکھنے والی شخصیات انتخاب کے ذریعہ سامنے آئیں تاہم امریکی کانگریس میں کافی ایسے اراکین موجود ہیں جو کہ پاکستان سے بہتری کے تعلقات چاہتے ہیں جبکہ میں نے بھی اس سلسلہ میں کافی کوششیں کیں ہیں کہ دونوں ملکوں کے قانون ساز اداروں میں موجود اراکین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دیا جائے اور کانگریس میں موجود پاکستانی کاکس بھی متحرک ہو لیکن ابھی تک اس کے فروٹ فل نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں اور اس ضمن میں اگر پاکستانی کاکس مزید متحرک ہو گا تو یقیناً اس کے بہتر نتائج بھی سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر کافی اراکین جن سے میری بات ہوتی ہے وہ پاکستان سے مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں کیونکہ کافی پاکستانی امریکہ میں بزنس لیڈر بھی ہیں جو کہ اس امریکی معاشرہ کا حصہ ہیں اور وہ پاکستان چھوڑ کر امریکہ آئے اور یہاں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں کافی مسائل کا سامنا ہے اس لیے اس ضمن میں مزید پیش رفت نہیں ہو سکی ہے تاہم میں یہاں رہنے والی کمیونٹی کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں کانگریس کے اکثریتی ہائوس لیڈر سے بات بھی کی ہے کہ دونوں ممالک کے قانون سازوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات اور بات چیت ہو سکے تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں اور کانگریس کے ذریعہ ہم بہتری لا سکیں ایڈی برنیس جانس کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ کانگریس میں انتہائی تجربہ کار اراکین موجود ہیں جو کہ کئی سالوں سے کانگریس کے رکن ہیں وہ مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں جبکہ 2010کے انتخابات کے بعد کافی منفی رجحان رکھنے والے افراد انتخابات کے ذریعہ منتخب ہو گئے اور اس میں کئی تو ایسے ہیں جو کہ باہر کی دنیا کا سفر بھی نہیں کرنا چاہتے اور انہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتے کہ بقیہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے دوسری اقوام کا کلچر کیا ہے اور دیگر دنیا کے لوگ کس طرح کلچر کے ذریعہ مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں جس کے بارے میں انکو معلوم بھی نہیں ہے تاہم میں پھر بھی پر امید ہوں کہ ہم ڈائیلاگ کے ذریعہ مثبت تبدیلیاں لے کر ائیں گے ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے بار بار ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم امداد دیتے ہیں اس لیے جو کہا جائے اس پر عمل کریں اس پر کانگریس وومین ایڈی برنیس جانس کا کہنا تھا کہ پچھلے عام انتخابات کے بعد رویوں میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی جبکہ صدر ٹرمپ کے منتخب ہو جانے کے بعد انہوں نے اپنی کابنی کا انتخاب بھی ایسے لوگوں پر مشتمل افراد میں سے کیا جو کہ ان کی ہی طرح کا ہی منفی رویہ رکھتے ہیں اسطرح تمام اداروں جس میں دفاع،خارجہ سمیت دیگر اہم ادارے شامل ہیں سب میں ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا جو کہ ان کے رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہی دیکھا کہ موجودہ صدر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کا رویہ زیادہ تر باہر کی دنیا کے خلاف ہے جبکہ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنانا ہے۔امریکہ پہلے نمبر پر ہو گا لیکن وہ اس بات کو شاید بھول گئے کہ تاریخ میں امریکہ کس طرح عظیم بنا انہوں نے کہا کہ امریکہ عظیم بنانے کیلئے اس نے پوری دنیا میں امن کیلئے کام کیا جبکہ جو بھی جنگیں ماضی میں امریکہ نے لڑیں وہ کبھی بھی براہ راست امریکہ سے نہیں تھیں بلکہ امریکہ نے امن کے قیام کیلئے ان جنگوں میں حصہ لیا تا کہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ جو رویہ اس وقت مقامی ٹرمپ انتظامیہ کا ہے وہ میری سمجھ سے بالا تر ہے تاہم ان کو امید ہے کہ یہ رویہ مختصر مدت کیلئے ہے اور کچھ عرصہ بعد ہم شاید ممکنہ طور پر واپس ٹریک پر آجائنیگے اور یہی امریکی وے ہے۔ایڈی برنیس جانس نے مزید کہا کہ کانگریس کے اندر اور باہر اراکین کانگریس کو امریکہ کے دنیا کے ساتھ خراب تعلقات پر تشویش ہے انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پاکستانی کاکس کی تعداد میں اراکین کا اضافہ ضروری ہے تا کہ دیگر اراکین کانگریس ہماری بات کو سمجھ سکیں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہم پاکستانی قانون ساز اداروں کے ساتھ ملکر کام کے خواہش مند ہیں تاکہ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہو اور خیالات کے تبادلہ سے ہی دونوں سائیڈوں پر جب کسی پالیسی سے متعلق کام ہو تو اعدادو شمار کے ذریعہ وہ پالیسی جس پر بحث کی جائے اور اس کے لیے ووٹ دئیے جائیں تو ہم ان اراکین پر اثر انداز ہو کر مثبت سمت میں ایک ساتھ مل کر کام کر سکیں اور ہم تمام دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کیلئے کام کر سکیں اس موقع پر پاکستان امریکن بزنس فورم کے چیئرمین حفیظ خان فورم کے صدر وقار خان جنرل سیکرٹری انور اعظم اور ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا کے سابق صدر ڈاکٹر داؤد ناصر بھی موجود تھے۔

Check Also

ڈیلس کے نومنتخب اٹارنی جرنل کو مسلم رہنماؤں کی مبارکباد

ڈیلس کے نومنتخب اٹارنی جرنل کو مسلم رہنماؤں کی مبارکباد ڈیلس کے نومنتخب اٹارنی جرنل …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *