Home / جاگو کالمز / عدم برداشت کا سیاسی کلچر

عدم برداشت کا سیاسی کلچر

 پاکستانی معاشرہ میں عدم برداشت کا کلچر ناپیدا ہوتا جارہا ہے ، نہ صرف پاکستان میں رہنے والے بلکہ امریکہ کے پڑھے لکھے معاشرہ میں مقیم پاکستانی بھی ایسے ہی رویہ کا شکار نظر آتے ہیں ، ملکی سیاست میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف سوشل میڈیا پرذاتی حملے اب روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں ،سیاست سے اخلاقیات رخصت ہوتے نظر آرہی ہیں اگر ہم پاکستانی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سیاست میں ذاتی مخالفت کارجحان سابق ڈکٹیٹر ایوب خان کے زمانہ میں سامنے آیا جب قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مدمقابل صدر کے عہدہ کیلئے ریفرنڈم میں انکے مدمقابل آئیں محترمہ فاطمہ جناح کواس وقت کے جرنیلوں نے انڈیا کا ایجنٹ تک قرار دے دیا جبکہ ان پر ذاتی حملہ تک بھی کیئے گئے اور جو کچھ انکے ساتھ کیا گیا  تاریخ کے طالب علم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں ، اسطرح میاں نواز شریف کے زمانے میں بھی محترمہ بے نظیربھٹو اور انکی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے خلاف ذاتی حملے کئے گئے اسی دور میں شیخ رشید کی گئیں تقاریریں بھی ناقابل فراموش ہیں ،جس میں انہوں نے بارہا نازیبا زبان کا استعمال کیا بعد ازاں اسی انداز کو عمران خان نے اپنایا اور انکے حماتیوں نے بھی اسطرح کے رویہ کا بھرپور اظہار کیا، دلچپس باتیہ ہے کہ یہ کلچر ہمیں ان افراد نے دیا جوکہ سیاست میں مخالفت کے قائل نہیں۔ طالبان اور لسانی تنظیمیں جنہوں نے بنائیں انہوں نے بعد ازاں مخالفت کرنے والے کو موت کا حقدار قرار دیا اور بدقسمتی سے یہ رویہ ابتک جاری وساری ہے جسمیں کمی آنے کی بجائے یہ رویہ پیشی سے پراون چڑھ رہا ہے۔آجکل شوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے عام افراد کی رسائی کو ایک گلوبل ولیک میں تبدیل کردیا ہے ،دنیا بھرمیں کوئی بھی لیڈر جو کچھ کہتا ہے اسکی باز گشت دنیا بھر میں فوری پہنچ جاتی ہے ، تاہم پاکستانی معاشرہ میں عدم برداشت اور سیاست سے اخلاقیات کا جسطرح جنازہ نکالا جارہا ہے  اسی طرح کی مثالیں ہمیں ماضی میں بھی نہیں ملتیں گوکہ اسوقت بھی ذاتیات پر حملے کئے جاتے تھے ، مگر اس زمانہ میں  مخالفت بھی اسی انداز سے کی جاتی تھی  کہ  اگر کوئی اخلاق کا دامن چھوڑ دیتا تھا تو  اس رہنما کو اپنے کہے گئے الفاظوں پر شرمندہ ہونا پڑا تھا ، اور اخلاق رکھنے والے اسپر معذرت کرتے بھی نظر آتے تھے، مگر اب ذاتیات پر حملوں کا سلسلہ عام جلسہ اور جلوسوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اسکی باز گشت ہمیں ان مقدس ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے ، جہاں پر غیر مہذب گفتگوکرنا انتہائی معیوب سمجھاجاتا ہے ، تبدیلی کے نام پر پاکستان میں آنے والی سرکار کو کہئی ماہ ہوچکے ہیں مگر اس عرصہ میں ابتک وہ عوام الناس کو مہنگائی کے علاوہ  کوئی بہتر ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں  جبکہ  نہ ہی وہ ملکی معیشت سے متعلق کو ئی بہتر پالیسیاں دے سکے ہیں اس ضمن میں اگر کوئی یہ سوال کرلے کہ آپ نے معیشت کیلئے کیا کیا،عوام کی فلاح وبہپور کیا منصوبہ تشکیل دیا مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلیئے آپکے پاس کیا پلان ہے ، ڈالر کو کس طرح نیچے لایا جائیگا، تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی اورنواز شریف نے ملک اورقوم کیلئے کیا ہے؟  ، بلاول بھٹو ہے یازرداری ، اس نے اردو کی بجائے انگریزی میں تقریر کیوں کی ، عجیب منطق ہے کہ سوال کرنے والی عوام سے ہی سوالات کیے جاتے ہیں جبکہ کوئی جواب بن نہیں پاتا تو سوال کرنے والے کو پٹواری یازرداری کا حامی قرار دیکر اصل جواب سے کنارہ کشی اختیار کی جاتی ہے ، اور پھر گندی اور غلیظ زبان کا بھی استعمال کرکے سوال کرنے والے کی کردار کشی کرکے اس کے سوال سے ٹال مٹول کرکے اسکو کہا جاتا ہے کہ آپ بس مخالف ہیں  ، کوئی ان سے یہ پوچھے کہ آپ کو عوام نے کیا اسی لیے ہی ووٹ دیئے تھے ؟ عوام کو نہ  پیپلز پارٹی اور نہ ہی نواز شریف کی نون لیگ پراعتماد تھا اسلیئے ہی عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے انکو یہ موقع فراہم کیا ، اور اگر وہی لوگ جنہوں نے آپکو ووٹ دیا ہے وہ آپ سے یہ سوال کریں کہ ہمیں ریلیف کب ملے گا  ؟ ، یا تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر کب عمل درآمد ہوگا ؟  ، تو تحریک انصاف کے رہنما اور نمائندے اپنی کارکردگی سے متعلق بنانے کے بجائے سیاسی مخالفین  کی پگڑھیاں اتارنے میں مشغول ہوجاتے ہیں ، انکایہ طرزعمل کسی طریقہ مناسب نہیں ، تحریک انصاف کی صفوں میں کافی رہنماموجود ہیں ، جوکہ کارکردگی سے متعلق سوال پوچھنے پر عجیب اور منفی انداز سے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، جو پریس  کانفرنس منعقد کی جاتی ہیں ، اسمیں انکے الفاظ اورانکی  زبان کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اطلاعات کو اس طرح کی نازیبا الفاظ پر وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا تا ہم پھر بھی تنقیدسیاسی حریفوں سے متعلق جو تنقیدی تقاریر ،جلسوں ،اسمبلی اور پریس کانفرنس میں کی جاتی ہے،اس میں ان کے الفاظ اور زبان انتہائی غیر پارلیمانی ہوتے ہیں،اراکین کا رویہ سیاسی حریفوںکے ساتھ ہتک آمیز ہونے کی وجہ سے کہیں بھی اخلاقیات کا عنصر نظر نہیں آتا ، منی بجٹ پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی پالیسیوں پر تنقیدکرتے ہوئے اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے حوالہ سے کچھ تجاویز بھی پیش کیں ، جبکہ خارجہ امور سے متعلق شاہ محمود قریشی نے ان کی تائید کی مگر اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ اسدعمر کاجو ردعمل دیا وہ حیران کن تھا ، کیونکہ انہوں نے انکے جواب میں کہا کہ پہلے وہ یہ بتا ئیں کہ اپنے نام کے ساتھ بھٹو کیوں لگاتے ہیں اور بعد ازاں دوسرے روز وزیر اعظم عمران خان جوکہ تھر کے دورہ پر تھے تو انہوں نے بھی اسد عمر کے کہے ہوئے جملے اپنی تقریر میں دوہرائے اور کہا کہ نام کے آخر میں بھٹو لگانے سے کو ئی لیڈر نہیں بن جاتا ، اسطرح اسد عمر نے جو کہ کچھ کہا وہ بھی حیرت انگیز تھا ،مگر عمران خان تو وزیر اعظم ہیں ، انکو کسی طور پر اسطرح نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ وہ PTIکے نہیںبلکہ ملک کے وزیر اعظم ہیں ، اور بحیثیت وزیراعظم ذاتی حملے انکو کس طور زیب نہیں دیتے انکو اشوز پہ بات کرنا چاہیے تھی کہ تھرپارکر سندھ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ، اور وہاں کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے مگر وہاں روزانہ بچے بھوک اور افلاس کم خوراک کے سبب مر رہے ہیں ، پینے کا صاف پانی نہیں ، کافی سارے ایسے مسائل ہیں جس میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت  ناکام رہی انکو اس پہ بات کرنا چاہیے تھی ، تھر کول منصوبہ میں مقامی افراد کو روز گار کے مواقع نہیں ملے ، اس بارے میں بولنا چاہیے تھا ، مگر انکو  تو اپنی سیاست چمکانی تھی ،وزیر اعظم وہاں اورلپلانٹس اور دو موبائیل اسپتا ل کے علاوہ وہ تھر کے غریب عوام کے کھلے زخموں پر کوئی بھی مرہم نہ رکھ سکے ، وہ سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ بنا کر ان پہ حملے کرکے وہاں سے چلتے بنے ، تحریک انصاف میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں جو تقاریر یں کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں ، اس بات کا خیال بھی نہیں کرتے کہ وہ کیا بول رہے ہیں ، اور جب اس پہ شور شرابا زیادہ ہونے لگتا ہے تووہ اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے یکدم یوٹرن اختیار کر لیتے ہیں ، اور معافی مانگ کر اپنی جان چھڑالیتے ہیں ، اس وقت تحریک انصاف ہو کہ پیپلز پارٹی یا نواز شریف کی مسلم لیگ (ن ) ان تینوں کے پاس ہی کوئی پالیسی نہیں جوکہ عوام کو ریلیف دے سکے بس یہ ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرکے اپنی سیاست کو عوام میں زندہ رکھے ہو ئے ہیں ، تحریک انصاف والے یا تو آصف زرداری یا پھر بلاول بھٹو سے متعلق بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، جبکہ کبھی نواز شریف کے خاندان کے گھریلو معاملات تک پر بھی بات کرتے ہیں ، اس طرح پیپلزپارٹی اور نواز شریف پارٹی کے رہنما عمران خان کی ماضی کی رنگین زندگی سے متعلق بتصرے کرتے ہیں ، لیکن عوام کو اس سے دلچسپی نہیں اس بحث سے ان کے مسائل حل نہیں ہونگے ،عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں، عوام کو اپنے بچوں کے مستقبل اور زندگی میں بنیادی سہولیات سے متعلق فکر ہے، عوام بجلی ،گیس کے بحران سے نجات چاہیت ہیں ، عوام کو صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات کا انتظار رہے ،عوام کو ذریعہ معاش کی تلاش ہے ان کو فکر ہے وہ کس طرح اپنے گھر کا چولہاجلائیں،بہر کیف حال ہی میں موجودہ حکومت کے وزراء کی تبدیلی سے یہ بات تو عیاں ہو گئی ہے نئے پاکستان کی وکٹیں بڑی تیزی سے اُڑ رہی ہیں اور عوام الناس کو اننگز کی شکست یقینی نظر آ رہی ہے، مگر کپتان اب بھی کہہ رہا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے لیکن عدم برداشت کا یہ سیاسی کلچر زیادہ دیر چلنے والا نہیں اور جو کچھ بویا گیا ہے اس کی فصل تیار ہو چکی ہے اور یہ فصل ان لوگوں کو ہی کاٹنا ہو گی۔

Check Also

بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی سونامی اور علاقائی امن کے امکانات

بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی سونامی اور علاقائی امن کے امکانات ڈاکٹرقیصرعباس (ڈاکٹرقیصرعباس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *